26 جولائی کو یوم پیدائش اور یوم وفات
اس موقع پر موصوف کے منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں….
*انتخاب و پیشکش…طارق اسلم*
عجیب بات ہے کیچڑ میں لہلہائے کنول
پھٹے پرانے سے جسموں پہ سج کے ریشم آئے
*بالآخر تھک ہار کے یارو ہم نے بھی تسلیم کیا*
*اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں*
بجھ گیا دل تو خرابی ہوئی ہے
پھر کسی شعلہ جبیں سے ملئے
*چاند کا حسن بھی زمین سے ہے*
*چاند پر چاندنی نہیں ہوتی*
دیکھ کر میرا دشت تنہائی
رنگ روئے بہار اترا ہے
*دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے*
*کھیلو توڑو جی بہلاؤ*
دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے
شام کو واپسی نہیں ہوتی
*ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ*
*کون ایسے میں پار اترا ہے*
حسن بنا جب بہتی گنگا
عشق ہوا کاغذ کی ناؤ
*لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں*
*لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں*
زمین کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے
ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

