25 جولائی
مشہور نوجوان شاعرہ، مصنفہ اور صحافی فوزیہ رباب کی پیدائش 25 جولائی 1988 کو احمدآباد (گجرات) کے ایک ذی علم گھرانے میں ہوئی. وہ 2010سے سیاحت و ثقافت کے حوالے سے مشہور خوبصورت طلسمی جزیرہ گوا میں رہائش پذیر ہیں. وہ اردو، ہندی اور انگریزی پر دسترس رکھتی ہیں. اس کے علاوہ انھیں فارسی، عربی، گجراتی، پنجابی اور کوکنی زبانوں کی اچھی خاصی شد بد ہے. انھوں نے گجرات یونی ورسٹی احمدآباد سے اردو میں ایم اے، بی ایڈ اور ایم اے جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن کی ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی ہے.فوزیہ رباب کئی ادبی رسائل و جرائد اور پورٹلس کی مجلسِ ادارت کے علاوہ مختلف ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں. ان کا کلام اور درجنوں مضامین ملک و بیرون ملک کے اہم رسائل و اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں.انھیں بحیثیت شاعرہ اور مہمان مختلف ٹی وی چینلوں اور ریڈیو پروگراموں میں دعوت دی جاچکی ہے.ان کے مجموعہ ءکلام “آنکھوں کے اس پار” کا اجرا 3 نومبر 2017 کو مضامین ڈاٹ کام اور شعبہء اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے اشتراک سے عمل میں آیا.ان کے اعزاز و پذیرائی میں دہلی، ممبئی، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اور احمدآباد سمیت کئی شہروں میں معروف ادبی تنظیموں کی جانب سے منعقد کیے جاچکے ہیں.ہندوستان کے سب سے اہم اور مؤقر ادبی ادارہ “ساہتیہ اکادمی” ، دہلی نے انھیں 5 مئی 2018 کو یوتھ کانفرنس میں بحیثیت شاعرہ مدعو کیا.فوزیہ رباب 27 ستمبر 2019 کو معروب ادبی سوسائٹی بزمِ اردو قطر کی پلیٹینم جوبلی کے موقع پر منعقدہ قطر عالمی مشاعرے میں بحیثیت شاعرہ شریک ہوئیں. مدھیہ پردیش اور راجستھان اردو اکادمی سمیت مختلف اداروں کی جانب سے منعقدہ درجنوں قومی اور بین الاقوامی مشاعروں میں ان کی شرکت ہوچکی ہے.اس کے علاوہ انھوں نے مختلف قومی اور عالمی سیمیناروں اور کانفرنسوں میں مقالات بھی پیش کیے ہیں. ان دنوں حکومتِ ہند کے سب سے بڑے اردو ادارہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی جانب سے “تانیثی شاعری” پر منظور کردہ دوسالہ پروجیکٹ کی تکمیل میں مصروف ہیں-
فوزیہ جی کے کچھ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں
انتخاب و پیشکش….. طارق اسلم
- تم تو کہتے تھے رباب اب میں تری مانوں گا
پھر بھی تم دیر سے گھر جاتے ہو حد کرتے ہو - نقش تکمیل تک پہنچتا ہے
عکس بس آپ کا ابھرتا ہے - گھائل ہے تیری شہزادی شہزادے
تو نے جو ہر بات بھلا دی شہزادے - زلف محبت برہم برہم می رقصم
وجد میں ہے پھر چشم پر نم می رقصم - حسن سادہ کا وار آنکھیں ہیں
بن ترے بیقرار آنکھیں ہیں - یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے
آ جا سکھ کے خواب بنیں ہم شہزادے - لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل
بات کرتا ہے یہاں کون ہماری پاگل - رنج و حزن و ملال نہ سائیں
کوئی میرا کمال نہ سائیں - اسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے
وہ ہر گھڑی جو مرے واسطے اداس رہے - دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر
کیسے موڑ پہ تو نے چھوڑا کوزہ گر - تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے
توڑ نہ دینا تم میرا دل شہزادے - نظر اداس جگر بے قرار چپ خاموش
تجھے کہا نہ ابھی صبر یار چپ خاموش - کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں
کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں - میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری
وہ بولا مت بڑھاؤ بیکلی میری - دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے
زخم ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں بیمار ترے - عجیب چھایا ہے خوف و ہراس آنکھوں میں
تمہارا درد نہیں ہے اداس آنکھوں میں - تھی اس کے لیے خواب کی تعبیر کوئی ہیر
کرتی تھی نہ رانجھے کو جو تسخیر کوئی ہیر - مجھ کو تو کچھ اور دکھا ہے آنکھوں کے اس پار
تم بتلاؤ آخر کیا ہے آنکھوں کے اس پار

