28 جولائی
نام فہمیدہ ریاض اور تخلص فہمیدہ ہے۔۲۸؍جولائی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما حاصل کیا۔طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو ’’فنون‘‘ میں چھپی۔ پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میں منظر عام پر آیا۔’’بدن دریدہ‘‘ ۱۹۷۳ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں چھپا۔’’دھوپ‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ۱۹۷۶ء میں چھپا۔ کچھ عرصہ نیشنل بک کونسل ، اسلام آباد کی سربراہ رہیں۔جب جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو یہ ادبی مجلہ’’آواز‘‘ کی مدیرہ تھیں۔ ملٹری حکومت ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی ۔ یہ ہندوستان آگئیں ۔ ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘1984 میں ہندوستان میں ان کا شعری مجموعہ چھپا۔ ضیاء الحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس چلی گئیں ۔ ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:’حلقہ مری زنجیر کا ‘، ’ہم رکا ب‘، ’ادھورا آدمی‘، ’اپنا جرم ثابت ہے‘، ’ میں مٹی کی مورت ہوں‘، ’آدمی کی زندگی‘۔ ان کی محبوب صنف سخن نظم ہے ۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:381
موصوفہ کے یوم ولادت پر ان کی ایک خوبصورت نظم احباب کی خدمت میں پیش ہے
انتخاب و پیشکش….طارق اسلم
بیٹھا ہے میرے سامنے وہ
جانے کسی سوچ میں پڑا ہے
اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کو
وحشت کرنا بھی آ گیا ہے
بچھ جاؤں میں اس کے راستے میں
پھر بھی کیا اس سے فائدہ ہے
ہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیں
وہ میرے لیے نہیں بنا ہے
میرے لیے اس کے ہاتھ کافی
اس کے لیے سارا فلسفہ ہے
میری نظروں سے ہے پریشاں
خود اپنی کشش سے ہی خفا ہے
سب بات سمجھ رہا ہے لیکن
گم سم سا مجھ کو دیکھتا ہے
جیسے میلے میں کوئی بچہ
اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہے
اس کے سینے میں چھپ کے روؤں
میرا دل تو یہ چاہتا ہے
کیسا خوش رنگ پھول ہے وہ
جو اس کے لبوں پہ کھل رہا ہے
یا رب وہ مجھے کبھی نہ بھولے
میری تجھ سے یہی دعا ہے

