مقبول استاد شاعرشیخ امام بخش ناسخؔ

Advertisements

یومِ وفات  16 اگست

نام شیخ امام بخش اور تخلص ناسخؔ تھا۔
10؍اپریل 1772ء کو فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ کہاجاتا ہے کہ ایک شخص مسمیٰ خدا بخش خیمہ دوزنے، جو لاہور کا ایک دولت مند سوداگر تھا اور اس کی کوئی اولاد نہ تھی، ان کو متبنّٰی کرلیا تھا۔ ناسخ سے اسے اولاد کی طرح محبت تھی اور ان کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھا۔ محمد عیسیٰ جو مصحفیؔ کے شاگرد تھے ان سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ ناسخ کو ورزش کا بہت شوق تھا۔ بڑے تن وتوش اور قوی ہیکل آدمی تھے۔ خوراک بہت تھی۔ تمام عمر مجرد رہے۔ بہت وضع دار آدمی تھے۔ غازی الدین حیدر کے زمانے میں لکھنؤ گئے۔ بادشاہ موصوف ان کو دربار سے متعلق کرنا چاہتے تھے اور ملک الشعرا کا خطاب دینا چاہتے تھے۔ ناسخ نے خطاب قبول نہیں کیا۔ بادشاہ کو غصہ آگیا اور ناسخ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا۔ 16؍اگست 1838ء کو انتقال کرگئے۔ دو دیوان ان کی یادگار ہیں۔
وزیرؔ،بحرؔ،برقؔ ، رشکؔ، منیرؔ ان کے شاگرد تھے۔
ناسخؔ کو دبستان لکھنؤ کا بانی زبان دان اور زباں شناس کہا گیا ہے۔تاریخ گوئی میں ان کو خاص ملکہ تھا۔

موصوف کے کچھ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں

*انتخاب و پیشکش… طارق اسلم*

زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں  
 
*تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت*
*ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں*

وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

*سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے*
*کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے*

آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم
جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم

*جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے*
*جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے*

دریائے حسن اور بھی دو ہاتھ بڑھ گیا
انگڑائی اس نے نشے میں لی جب اٹھا کے ہاتھ

*غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے*
*ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ*

معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ

*رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی*
*دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں*

تمام عمر یوں ہی ہو گئی بسر اپنی
شب فراق گئی روز انتظار آیا 

*لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں*
*نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں*

اے اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے
آج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا

*اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ*
*اور ہی لایا فراق یار رنگ*  
 
تین تربینی ہیں دو آنکھیں مری
اب الہ آباد بھی پنجاب ہے

*ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب*
*فردوس میں بھی سنتے ہیں نہر شراب ہے*

بھولتا ہی نہیں وہ دل سے اسے
ہم نے سو سو طرح بھلا دیکھا

*خود غلط ہے جو کہے ہوتی ہے تقدیر غلط*
*کہیں قسمت کی بھی ہو سکتی ہے تحریر غلط*

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading