کا یوم وفات-16 اگست
نظیر کا اصل نام ولی محمد تھا۔والد محمد فاروق عظیم آباد کی سرکار میں ملازم تھے۔نظیر کی ولادت دہلی میں ہوئی جہاں سے وہ اچھی خاصی عمر میں اکبرآباد(آگرہ) منتقل ہوئے اسی لئے کچھ نقّاد ان کے دہلوی ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔ تقریباً انیسویں صدی کے آخر تک تذکرہ نویسوں اور نقّادوں نے نظیر کی طرف سے ایسی بے اعتنائی برتی کہ ان کی زندگی کے حالات پر پردے پڑے رہے۔آخر1896ء میں پروفیسر عبد الغفور شہباز نے “زندگانی بے نظیر” مرتب کی جسے نظیر کی زندگی کے حوالہ سے حرف آخر قرار دیا گیا ہے حالانکہ خود پروفیسر شہباز نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی تحقیق میں خیال آرائی کی آمیزش ہے۔یقینی بات یہ ہے کہ اٹھارویں صدی میں دہلی انتشار اور بربادی سے عبارت تھی۔مقامی اور اندرونی خلفشار کے علاوہ 1739 میں نادر شاہی سیلابِ بلا آیا پھر 1748،1751 اور 1756ء میں احمد شاہ ابدالی نے پے در پے حملے کئے۔ان حالات میں نظیر نےبھی بہت سے دوسروں کی طرح،دہلی چھوڑ کر اکبر آباد کی راہ لی، جہاں ان کے نانا نواب سلطان خاں قلعدار رہتے تھے۔اس وقت ان کی عمر 22-23 سال بتائی جاتی ہے۔نظیر کے دہلی کے قیام کے متعلق کوئی تفصیل تذکروں یا خود ان کے کلام میں نہیں ملتی۔نظیر نے کتنی تعلیم حاصل کی اور کہاں یہ بھی معلوم نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فارسی کی سبھی متداول کتابیں پڑھی تھیں اور فارسی کی اہم تصانیف ان کے زیر مطالعہ رہی تھیں۔لیکن عربی نہ جاننے کا اعتراف نظیر نے خود کیا ہے۔نظیر کئی زبانیں جانتے تھے لیکن ان کو زبان کی بجائے بولیاں کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔جن کا اثر ان کی شاعری میں نمایاں ہے۔ آگرہ میں نظیر کا پیشہ بچّوں کو پڑھانا تھا۔اس زمانہ کے مکتبوں اور مدرسوں کی طرح ان کا بھی ایک مکتب تھا،جو شہر کے مختلف مقامات پر رہا۔لیکن سب سے زیادہ شہرت اس مکتب کو ملی جہاں وہ دوسرے بچوں کے علاوہ آگرہ کے ایک تاجر لالہ بلاس رائے کے کئی بیٹوں کو فارسی پڑھاتے تھے۔نظیر اس معلمی میں قناعت کی زندگی بسر کرتے تھے۔بھرت پور،حیدرآباد اور اودھ کے شاہی درباروں نے سفر خرچ بھیج کر ان کو بلانا چاہا لیکن انھوں نے آگرہ چھوڑ کر کہیں جانے سے انکار کر دیا۔نظیر کے متعلق جس نے بھی کچھ لکھا ہے اس نے ان کے اخلاق و عادات، سادگی، حلم اور فروتنی کا تذکرہ بہت اچھے الفاظ میں کیا ہے۔دربارداری اور وظیفہ خواری کے اس دور میں اس سے بچنا ایک مخصوص کردار کا پتہ دیتا ہے۔کچھ لوگوں نے نظیر کو قریشی اور کچھ نے سید کہا ہے۔ان کا مذہب امامیہ معلوم ہوتا ہے لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ صوفی مشرب اور صلح ک کل انساں تھے اور کبھی کبھی زندگی کو وحدت الوجودی زاویہ سے دیکھتے نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جس خلوص اور جوش کے ساتھ ہندو مذہب کے بعض موضوعات پر جیسی نظمیں لکھی ہیں ویسی خود ہندو شاعر بھی نہیں لکھ سکے۔پتہ نہیں چلتا کی انہوں نے اپنے دہلی کے قیام میں کس طرح کی شاعری کی یا کس کو استاد بنایا۔ان کی بعض غزلوں میں میر و مرزا کے دور کا رنگ جھلکتا ہے۔دہلی کے بعض شاعروں کی غزلوں کی تضمین ان کی ابتدائی شاعری کی یادگار ہو سکتی ہے۔لیکن اس کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا کہ ان کی دہلی کی شاعری کا کیا رنگ تھا۔انہوں نے زیادہ تر مختلف موضوعات پر نظمیں لکھیں اور وہ ان ہی کے لئے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے اپن اپنا کلام جمع نہیں کیا۔ان کی وفات کے بعد بلاس رائے کے بیٹوں نے متفرق چیزیں جمع کر کے پہلی بار کلّیات نظیر اکبرآبادی کے نام سے شائع کیا جس کا سن اشاعت معلوم نہیں۔فرانسیسی مستشرق گارسان دی تاسی نے خیال ظاہر کیا ہے کہ نظیر کا پہلا دیوان 1720ء میں دیوناگری رسم الخط میں شائع ہوا تھا۔آگرہ کے مطبع الٰہی نے بہت سے اضافوں کے ساتھ اردو میں ان کا کلیات 1767 ء میں شائع کیا ۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں کلیات نظیر نولکشور پریس لکھنو سے شائع ہوتا رہا۔نظیر نے طویل عمر پائی۔عمر کے آخری حصہ میں فالج ہو گیا تھا۔اسی حالت میں 1830ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بہت سے شاگردوں میں میر مہدی ظاہر۔قطب الدین باطن۔لالہ بد سین صافی،شیخ نبی بخش عاشق،منشی، منشی حسن علی محو کے نام ملتے ہیں۔
موصوف کے یوم وفات کے موقع پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں
*انتخاب و پیشکش…طارق اسلم*
*جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو*
*یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو*
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی اے شوخ ترا چاہنے والا نکلا
*مے پی کے جو گرتا ہے تو لیتے ہیں اسے تھام*
*نظروں سے گرا جو اسے پھر کس نے سنبھالا*
تھے ہم تو خود پسند بہت لیکن عشق میں
اب ہے وہی پسند جو ہو یار کو پسند
*کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر*
*کیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم*
بے نظیر شاعر نظیر اکبرآبادی صاحب

Advertisements
