Wednesday، 23 September، 2026
Transform Today, Thrive Tomorrow
Badlao Zaruri Hai

رئیس الادب عبداللہ ہلال مالیگ

یوم وفات 2 ستمبر

شہر مالیگاؤں علم وادب کی وہ زرخیز زمین ہے جہاں ہر دور میں ادبی فصلیں سر سبز و شاداب رہی ہیں – معاشرے کے ہر طبقے سے لوگوں نے ادبی خدمات انجام دی ہیں- عبداللہ ہلال ادبی افق پر چمکنے والا وہ آفتاب تھا جس سے بہتوں نے روشنی پائی ہے- یہ الگ بات ہے کہ اعتراف کم ہی لوگوں نے کیا-7 ستمبر 1976 کو مالیگاؤں کی کمال پورہ نامی بستی میں ایک غریب خاندان میں اس با کمال شخصیت کی ولادت ہوئی جس کا نام والدین نے رئیس احمد رکھا جو کہ اسم با مسمی’ رئیس ا لادب شخصیت بن کر ابھرا-ابتدائی تعلیم ام المدارس اے ٹی ٹی ہائی اسکول سے حاصل کی اس کے بعد شیخ عثمان ہائی اسکول میں داخلہ لیا- ناگفتہ معاشی حالات نے مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی اور روزگار کے لئے محنت مزدوری کرنے لگے- بچپن سے ہی طبعیت میں ادبی شوق جلا پا چکا تھا- یوم اطفال کے موقع پر 14 نومبر 1989 کو اپنے مکان پر ہی انجمن ہمت طفلاں نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کے زیراہتمام بچوں اور نوعمروں میں ادبی شوق پروان چڑھانے کے مقصد سے بچوں پر مبنی کہانی نویسی.. حمد خوانی.. نظم خوانی… لطیفہ گوئی اور تقریری مقابلے و دیگر انعامی و ادبی تقریبات کا انعقاد کیا جانے لگا-اپنی شباہت اور قلندرانہ طبعیت کی وجہ سے لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا لیکن جب یہی رئیس احمد عبداللہ ہلال بن کر منظر عام پر آیا تو ادبی دنیا پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے-چند لوگوں کو چھوڑ کر ادب سے تعلق رکھنے والوں نے عبداللہ ہلال کی حوصلہ شکنی کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی- یہاں تک کے ان پر مختلف الزامات لگائے گئے نا صرف ان کی ادبی تخلیقات کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان ذاتی زندگی میں بھی مداخلت کرتے ہوئے دین و مذہب کے تعلق سے بھی انتہائی گری ہوئی حرکت کی گئی اور ان پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی گئی – ان تمام حالات میں بھی یہ ہلال ادبی آسمان پر اپنی آب و تاب کے ساتھ روشن اور تاباں رہا-ان کا مجموعہ کلام بنام موم کی سیڑھی منظرِ عام پر آنے کے بعد بہتوں کو یہ علم ہوا کہ عبداللہ ہلال کس معیار کے شاعر تھے- 2 ستمبر 2015 کو ادب کا ہلال ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا لیکن اپنے پیچھے وہ روشنی چھوڑ گیا جس سے ادبی دنیا ہمیشہ ردشن رہے گی-
موصوف کے یوم وفات پر کچھ منتخب اشعار پیش ہیں

از قلم…. طارق اسلم

بوقتِ دفنِ میّت ہی ہمیں سمجھے گی یہ دنیا
ہم اپنی تلخیاں اشعار کے نشتر میں رکھتے ہیں

اتنا چھپا ہے ڈھونڈنا مشکل ہوا تجھے
اور اس قدر عیاں ہے کہ شہِ رگ سے ہے قریب

جو تجھ سے لَو لگائیں تجھے ہی صدائیں دیں
تو ان کا ہے حبیب وہ سب ہیں ترے حبیب

آج زنجیرِ پا خود سسکنے لگی
میرے زنداں کی آب و ہوا دیکھ کرآ

حدِ برقِ تپاں ہے اور میں ہوں
سلامت آشیاں ہے اور میں ہوں
غمِ دوراں تلاشِ عیش و عشرت
مرا خستہ مکاں ہے اور میں ہوں

کب مری تعظیم کو آئے گی خود بڑھ کر صلیب
کب مجھے دیوانہ پن لے جائے گا منصور تک

پہلے فولادی مشینوں کو پلایا اس نے خوں
تب کہیں دو وقت کی روٹی گئی مزدور تک

لڑکھڑاتے ہیں تو کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں
وقت کے ساتھ ہی انسان بدل جاتے ہیں

اک انگڑائی میں زاہد کی عبادت کا بھرم ٹوٹے
کسی کے ذہن و دل پر اسطرح مت ظلم فرماؤ

لب و رخسار کی شوخی ہمیں دیوانہ کرتی ہے
تم اک ہلکے تبسم میں کلی سے پھول بن جاؤ

مریضانِ محبت کو تمہاری اک جھلک کافی
رموزِ زندگی عشّاقِ عالم کو بھی سمجھاؤ

جنازہ اٹھ چکا تہذیب اور تمدن کا
تو اب کہ دَور میں بس “آدمی” کی بات نہ کر

شبِ سیاہ کو بڑھ کر گلے لگانے دے
سحر قریب ہے اب تیرگی کی بات نہ کر

مری فکر کہتی ہے زعمِ انا میں مرا فن منقش ہے عرشِ غزل پر
جہاں پر تری منزلِ انتہا ہے وہاں سے ھلاؔل ابتدا کررہا ہے

اک دن جس سے فرحت مَیں نے پائی تھی وہ لطفِ دیدار ابھی تک باقی ہے
آنکھوں کا میخانہ پھر سے کھولو تم مجھ جیسا میخوار ابھی تک باقی ہے

نہ بن حُباب، گُہر بن نظر میں دنیا کی
ہے ظرف تیرا سمندر ندی کی بات نہ کر

عشق کیا جاتا ہی نہیں عشق تو خود ہوجاتاہے
ملتے ملتے ہوجاتا ہے دل دیوانہ شام ڈھلے

مصائب امتحاں ہیں چاروں جانب
تلاشِ کارواں ہے اور میں ہوں

یہ آرزو کہ سلامت رہے قلم میرا
کہ تیرے حسن کا جس سے سدا قصیدہ لکھوں

بہارِ گلشنِ ہستی پہ تجھ کو فوقیت
میں دے کے تیرے لیے پیارا پیارا گیت پڑھوں

تم جو محبت کی مے پینے آؤ گے اس بستی میں
کھُل جائے گا دل کا یارو ! یہ میخانہ شام ڈھلے

فلسفہ زندگی کا سمجھ لیجیے ناؤ کاغذ کی ہے آپ کی زندگی
تیز دھارے کو دنیا تصوّر کرو زندگی کی حقیقت سمجھ جاؤ گے

تو ورق در ورق محبت کی اک مکمل کتاب لگتا ہے
صدیوں پہلے کیا تھا جو میں نے تو وہی انتخاب لگتا ہے

اثر رسوخ ہے جس کا وہی تو ہے مجرم
گواہی دو گے؟ دھواں آپ نے بھی دیکھا ہے

وہ آیا شہر سے لے کر جدیدیت کا لباس
خلوص جس سے برہنہ ہوا ہے گاؤں کا

جلال آیا تو سورج سے لڑ پڑوں گا ھلؔال
اگرچہ ذرّۂ کمتر ہوں مالیگاؤں کا

تنقید کے بغیر مکمل نہیں ہے فَن
اے صاحبانِ نقد و نظر جانتا ہوں مَیں

تقاضائے دلِ مضطر کسی کے نام تک پہنچا
جوابِ دلبراں لیکن فقط پیغام تک پہنچا

زمانے کی محبت کی حسیں یادیں لیے دل میں
تناور اک شجر ڈھونڈا تبھی آرام تک پہنچا

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

BadlaoZaruriHai