اقراء گروپ آف اسکولس، ماہانہ تربیتی کیمپ میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ پر زور
اورنگ آباد، یکم اگست 2026:
الحرا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، اورنگ آباد کے زیرِ اہتمام اقراء گروپ آف اسکولس کا ماہانہ تربیتی کیمپ برائے اساتذہ نہایت منظم، بامقصد اور کامیاب انداز میں اشفاق احمد ہال، اقراء اسکول کیمپس، اورنگ آباد میں منعقد ہوا۔ اس تربیتی پروگرام کا مقصد اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، تدریسی معیار کو بہتر بنانا اور تعلیمی میدان میں نئی اختراعات سے روشناس کرانا تھا۔ اس موقع پر ادارے کے ذمہ داران، اساتذہ کرام اور تعلیمی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
پروگرام کی نظامت سیدہ شیریں صاحبہ (اقراء پرائمری) نے نہایت عمدہ اور مؤثر انداز میں انجام دی، جبکہ سید جاوید صاحب (اقراء بوائز) نے ناظمِ کیمپ کی حیثیت سے تمام انتظامات کو خوش اسلوبی سے سنبھالا۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب الیاس احمد صاحب (سابق صدر مدرس) نے شرکت فرما کر پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔محترمہ مبشرہ فردوس صاحبہ (اقراء بوائز جونیئر کالج) نے قرآنِ کریم کی منتخب آیات کی تلاوت کے ساتھ ان کا مختصر مفہوم بھی پیش کیا، جس میں علم کی اہمیت، کردار سازی اور انسان کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی۔

اس کے بعد محترم ضمیر قادری صاحب (نائب امیر حلقہ مہاراشٹر) نے “حالاتِ حاضرہ میں ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان پر فکر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے موجودہ سماجی، تعلیمی اور اخلاقی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور بے شمار چیلنجز سے بھرپور ہے، ایسے میں اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ صرف نصابی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں تاکہ معاشرے کو باکردار اور باصلاحیت نوجوان میسر آ سکیں۔
بعد ازاں جماعت ششم کے طالب علم حسان ہارون نے انتہائی دلنشین انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ ان کی مترنم آواز اور عقیدت بھری پیشکش نے حاضرین کے دلوں کو منور کر دیا، جس پر شرکاء نے خوب داد دی۔
پروگرام کا مرکزی اور خصوصی سیشن “تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے اساتذہ کی اختراعی کاوشیں” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس سے محترم عبداللہ رضا صاحب، کیندر پرمکھ، ضلع پریشد، اورنگ آباد نے خطاب کیا۔
اپنے جامع، مدلل اور پُرمغز لیکچر میں انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کے تعلیمی تقاضے روایتی تدریسی انداز سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ آج کے استاد کو صرف کتابی معلومات فراہم کرنے والا فرد نہیں بلکہ ایک رہنما، محقق، تخلیق کار اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے والا معمار بننا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی معیار کی حقیقی بلندی اس وقت ممکن ہے جب تدریسی عمل میں جدت، تخلیقی سوچ، سرگرمی پر مبنی تعلیم، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں کو فروغ دینے والی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
عبداللہ رضا صاحب نے اساتذہ کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، انٹرایکٹو لرننگ، پروجیکٹ بیسڈ لرننگ، تجرباتی تدریس اور مسلسل تشخیص جیسے جدید تدریسی طریقوں سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک اختراعی استاد محدود وسائل میں بھی بہترین نتائج پیدا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر سیکھنے اور اپنے آپ کو مسلسل بہتر بنانے کا جذبہ موجود ہو۔ انہوں نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مسلسل مطالعہ کریں، تربیتی پروگراموں میں حصہ لیں اور نئی تدریسی مہارتیں اختیار کریں تاکہ طلبہ کے اندر تحقیق، تخلیقی سوچ اور خود اعتمادی پیدا ہو۔
انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی، نئی تعلیمی ٹیکنالوجی اور طلبہ مرکز تدریس کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے عملی مثالوں کے ذریعے بتایا کہ کس طرح جدید ذرائع استعمال کر کے تدریس کو دلچسپ، مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے خطاب کو حاضرین نے بے حد سراہا اور اسے موجودہ دور کی اہم ضرورت قرار دیا۔
آخر میں الحرا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر محترم عبدالواجد قادری صاحب نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت کے ذریعے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ تربیتی کیمپوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو اپنی روزمرہ تدریس میں عملی طور پر نافذ کریں، کیونکہ ایک بہترین استاد ہی بہترین معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ انہوں نے تمام مقررین، مہمانانِ کرام، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے تربیتی پروگرام آئندہ بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اس تربیتی کیمپ کو انتہائی مفید، معلوماتی اور حوصلہ افزا قرار دیا۔ اساتذہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جدید تدریسی طریقوں، اختراعی سرگرمیوں اور تعلیمی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنے تدریسی معیار کو مزید بہتر بنائیں گے اور طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔
یہ ماہانہ تربیتی کیمپ اس بات کا عملی ثبوت ثابت ہوا کہ اقراء گروپ آف اسکولس اپنے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، معیاری تعلیم کے فروغ اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ تدریسی ماحول کی فراہمی کے لیے مسلسل کوشاں ہے، اور مستقبل میں بھی ایسے تربیتی پروگرام ادارے کی تعلیمی روایت کا اہم حصہ رہیں گے۔





