
جس طبقے کو قبرستان سے گزرتے ہوئے میت کو سلام کرنے کا حکم دیا گیا تھا، افسوس! آج وہی طبقہ اس قدر مصروف اور لاپرواہ ہو چکا ہے کہ کسی زندہ انسان کو بلاوجہ سلام کرنا گوارہ نہیں کرتا۔
تلخ حقیقت!
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سلام کرنا محض ایک رسمی جملہ نہیں، بلکہ یہ ایک اخلاقی قدر اور محبت و اخوت کی نشانی ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں بھی ایک دوسرے کو سلام کرنے کا رواج موجود ہے، جو کہ آپس میں احترام اور رواداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر اسلام میں سلام کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو پھیلانے کی بارہا تلقین فرمائی اور اسے ایک عظیم نیکی قرار دیا۔
اسلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہم نہ صرف اپنے عزیز و اقارب بلکہ ہر شخص کو سلام کریں۔ حتیٰ کہ قبرستان سے گزرتے ہوئے بھی ہمیں میتوں کو سلام کرنا سکھایا گیا تاکہ ہم دنیا کی حقیقت کو یاد رکھیں اور عاجزی و انکساری کی روش اختیار کریں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جس طبقے کو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے تھا، آج وہی طبقہ اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اسے دوسروں کو سلام کرنا گوارہ نہیں۔
ہمارا معاشرہ اس وقت خود غرضی، مادہ پرستی اور بے حسی کا شکار ہو چکا ہے۔ آج کل لوگ اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اپنے سوا کسی اور کی فکر نہیں۔ ہم نے اپنی ترجیحات کو اس قدر محدود کر لیا ہے کہ سلام کرنے جیسے معمولی مگر انتہائی بامعنی عمل کو بھلا دیا ہے۔ اب لوگ سلام کرنا تو دور کی بات، دوسرے انسانوں کی موجودگی کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔
سلام نہ کرنا صرف ایک اخلاقی زوال نہیں بلکہ ہماری روحانی کمزوری کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے اپنی ذات کے گرد ایسی دیواریں کھڑی کر لی ہیں جو ہمیں دوسروں کے لیے محبت اور احترام ظاہر کرنے سے روک رہی ہیں۔ سلام نہ کرنا ہمارے معاشرتی نظام میں بڑھتی ہوئی سرد مہری اور بے حسی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں محبت، رواداری اور بھائی چارہ دوبارہ پروان چڑھے تو ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ہمیں اپنی مصروف زندگیوں میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر دوسروں کو سلام کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ یہ چھوٹا سا عمل ہماری زندگیوں میں بڑی مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
آئیں! ہم سب عہد کریں کہ ہم دوبارہ سے اس عظیم سنت کو زندہ کریں گے، ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور محبت و احترام کا یہ پیغام پھیلائیں گے تاکہ ہمارے معاشرے میں ایک بار پھر اخلاقی اقدار کی روشنی پھیل سکے۔

