جنم دن 3 اگست
زبان کو مذہب کے خانوں میں بانٹا نہیں جاسکتا – اردو زبان و ادب سے غیر مسلم شخصیات کا گہرا تعلق رہا ہے- اردو شاعری و نثر سے بہت معروف و بڑے نام جڑے ہیں لیکن کچھ نام ایسے بھی ہیں جو اتنے معروف نہیں پھر بھی انہوں نے اردو زبان میں معیاری کام کیا ہے- اسی طرح کا ایک نام بھگوان داس شباب للت کا ہے- موصوف 3 اگست 1933 کو پنجاب میں پیدا ہوئے- تاریخ اور اردو میں ایم- اے کرنے کے بعد مرکزی حکومت کے شعبہ اطلاعات و نشریات میں بطور فیلڈ آفیسر رجوع بہ کار ہوئے- شباب صاحب ایک بہت ہی زود گو شاعر گزرے ہیں- اپنے عہد کے بلند پایہ استادشاعر و مترجم جناب بشیشور پرشاد منور سے اصلاح لیا کرتے تھے- ان کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن کے نام درج ذیل ہیں
اجنبی ہوا..
آنچ برف زادوں کی…
پروائی…
اڑان….
زرد موسموں کے درد…
سمندر پیاس ہے….
دائروں کا سفر…..
صحرا کی پیاس…
قلم کے کرشمے….
آخری مجموعہ کلام سمندر پیاسا ہے کے نام سے شائع ہوا-
موصوف کے کچھ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں…
انتخاب و پیشکش… طارق اسلم
اسی میں مست جوانی ہماری کھیلی تھی
جو اب کھنڈر ہے وہ نغمات کی حویلی تھی
جادوئی ماحول میں ہر لینے والی چھتریاں
ملگجی رت دودھیا ہاتھوں میں کالی چھتریاں
برتر سماج سے کوئی فن کار بھی نہیں
فن کار کیا جو صاحب کردار بھی نہیں
لے کے بے شک ہاتھ میں خنجر چلو
اوڑھ کر اخلاص کی چادر چلو
ان گنت شاداب جسموں کی جوانی پی گیا
وہ سمندر کتنے دریاؤں کا پانی پی گیا
آ گیا ہے وقت اب بھگتو گے خمیازے بہت
ہم فقیروں پر کسے تم نے بھی آوازے بہت
شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا
میں تیرے سایۂ لطف و عطا میں بیٹھا تھا
حد ستم نہ کر کہ زمانہ خراب ہے
ظالم خدا سے ڈر کہ زمانہ خراب ہے
دور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرف
اب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہرطرف
مانگا تھا ہم نے دن وہ سیہ رات دے گیا
سورج ہمیں اندھیرے کی سوغات دے گیا
شجر یہ چار سو باد خزاں کے مارے ہوئے
سپاہی جیسے نہتے عدو سے ہارے ہوئے
آرزو ایک ندی ہو جیسے
زندگی تشنہ لبی ہو جیسے
چار سو بارود کی بو چار سو خوف و ہراس
بند دروازوں کے پیچھے مرد و زن سب بد حواس

