انتخاب و پیشکش—-طارق اسلم
آج 3 اگست
شکیل بدایونی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کے تذکرے کے بغیر ہندی فلموں کی نغمہ نگاری کا باب مکمل ہو ہی نہیں سکتا…سیکڑوں ہٹ نغموں کے خالق شکیل صاحب کی غیر فلمی شاعری بھی کمال کی تھی…….بطور خراج عقیدت شکیل بدایونی صاحب کے کچھ غیرفلمی منتخب اشعار آپ احباب کی خدمت عالیہ میں….
تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو
آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ…..!
آگئی ہیں رحمتیں پھر جوش میں
ہوش میں، اے پینے والے! ہوش میں
حاصل ہے اختیار جسے مرگ و زیست پر
جی چاہتا ہے عمر گزاروں اُسی کے ساتھ
انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل
رہی ہیں
میں جو اُن سے رُوٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے
حسن مصروف خود نمائی ہے
عشق کا دور ابتدائی ہے
آپ نے کس نظر سے دیکھا تھا
دل ابھی تک ہے موردِ الزام
دور ہو کر بھی پاس ہے کوئی
اہتمامِ نظر کو کیا کہیے !!
زاہد کی مئے کشی پہ تعجب نہ کیجئے
لاتی ہے رنگ فطرت آدم کبھی کبھی
چاہیے خود پہ یقین کامل…!
حوصلہ کس کا بڑھاتا ہے کوئی
وائے حیرت کہ بھری محفل میں
مجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی
دشمنوں کو ستم کا خوف نہیں
دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں
صدق و صفائے قلب سے محروم ہے حیات
کرتے ہیں بندگی بھی جہنّم کے ڈر سے ہم

