بورڈ امتحانات کے دوران طلبہ کے عام خدشات اور ان کا حل

Advertisements

پٹھان محمد مصطفیٰ خان
مددگار معلم ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول سیلو ضلع پربھنی
8857002235

دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات طلبہ کی تعلیمی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب طلبہ کے ذہن میں کئی سوالات، خدشات اور خوف پیدا ہوتے ہیں۔ ان امتحانات کی اہمیت اور مستقبل پر ان کے اثرات کی وجہ سے بہت سے طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پاتے۔

یہ ضروری ہے کہ ان خدشات اور خوف کو سمجھا جائے اور ان کا مناسب حل تلاش کیا جائے۔ اس مضمون میں ہم ایسے اہم سوالات اور ان کے تسلی بخش جوابات پر روشنی ڈالیں گے جو عموماً طلبہ کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان سوالات اور جوابات کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کی جائے گی تاکہ وہ پراعتماد ہو کر امتحانات کا سامنا کر سکیں۔

بورڈ امتحانات کے حوالے سے طلبہ کے عام سوالات اور ان کے تسلی بخش جوابات:-

  1. “اگر میں ناکام ہو گیا تو میرا مستقبل کیا ہوگا؟”
    جواب: ناکام ہونا کوئی زندگی کا آخر نہیں ہے۔ آپ دوبارہ امتحان دے سکتے ہیں۔ کئی کامیاب لوگوں نے شروع میں ناکامی کا سامنا کیا۔ مثال کے طور پر بل گیٹس کی پہلی کمپنی ناکام ہوئی، لیکن بعد میں وہ مائیکروسافٹ کے ساتھ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہوئے۔ یاد رکھیں، ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہو سکتی ہے۔
  2. “اتنا بڑا نصاب کیسے یاد ہوگا؟”
    جواب: نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔ روزانہ 2-3 گھنٹے باقاعدگی سے پڑھیں۔ مختصر نوٹس بنائیں۔ یاد رکھیں کہ مطالعہ کا سب سے مؤثر طریقے اپنائے، جیسے 25 منٹ پڑھائی کے بعد 5 منٹ کا وقفہ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مائنڈ میپنگ کا استعمال بھی نصاب کو یاد کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
  3. “امتحان ہال میں جا کر اگر مجھے یاد کیے گئے سوالات کے جوابات یاد نہ آئے تو میں کیا کروں ؟”
    جواب: باقاعدہ موک ٹیسٹ دیں۔ امتحان ہال میں گہری سانس لیں۔ پہلے آسان سوالات حل کریں۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ کی یادداشت جواب دے رہی ہے تو اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔
    لمبی سانس لینےکی تکنیک دماغ کو پرسکون کرنے میں مدد کرتی ہے۔
  4. “میرے والدین کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو؟”
    جواب: والدین سے کھل کر بات کریں۔ اپنی بہترین کوشش پر توجہ دیں۔ نتائج کے بجائے کوشش اہم ہے۔ ہفتہ وار اپنی تیاری کے بارے میں والدین کو آگاہ کرتے رہیں۔ مثلاً: “ابا/امی، اس ہفتے میں نے ریاضی کے تین چیپٹر مکمل کیے ہیں اور پچھلے پانچ سالوں کے پیپرز حل کیے ہیں۔” اس سے والدین کو آپ کی محنت کا اندازہ ہوگا۔
  5. “اگر میں پیپر مقررہ وقت پر ختم نہ کر پاؤں تو ؟”
    جواب: پرانے پیپرز کی پریکٹس کریں۔ ٹائم مینجمنٹ سیکھیں۔ ہر سوال کے لیے وقت مختص کریں۔ ایک عملی تکنیک یہ ہے کہ 3 گھنٹے کے پیپر میں 2 گھنٹے 40 منٹ سوالات حل کرنے کے لیے اور 20 منٹ چیکنگ کے لیے رکھیں۔ سوالات کو ان کے نمبروں کے حساب سے وقت دیں۔ مثلاً 10 نمبر کے سوال کے لیے 20 منٹ رکھیں۔
  6. “اگر کوئی سوال سمجھ نہ آئے تو کیا کروں؟”
    جواب: سوال کو آرام سے دوبارہ پڑھیں۔ جو معلوم ہے وہ لکھیں۔ اگلے سوال پر بڑھ جائیں۔ ایک اچھی تکنیک “S.O.S” ہے: S (Scan) – سوال کو اچھی طرح پڑھیں، O (Organize) – معلومات کو ترتیب دیں، S (Solve) – حل کریں۔ اگر پھر بھی مشکل ہو تو مطلوبہ پوائنٹس لکھ کر آگے بڑھ جائیں۔
  7. ” کیا میں دوسروں سے کمتر ہوں؟”
    جواب: ہر انسان مختلف ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں۔ دوسروں سے موازنہ نہ کریں۔ اپنی کامیابیوں کی ڈائری بنائیں۔ روزانہ کی چھوٹی کامیابیاں نوٹ کریں۔ مثلاً: “آج میں نے سائنس کا مشکل چیپٹر سمجھ لیا” یا “آج میں نے 3 گھنٹے بغیر کسی رکاوٹ کے پڑھائی کی۔”
  8. “امتحان کی رات نیند نہ آئی تو؟”
    جواب: امتحان سے ایک دن پہلے زیادہ پڑھنے سے گریز کریں۔ جلدی سو جائیں۔ ہلکی ورزش کریں۔ گرم دودھ پیئں۔ موبائل اور لیپ ٹاپ سے دور رہیں۔ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے ہلکی پھلکی سیر کریں۔
  9. “پیپر حل کرتے وقت اگر کچھ غلطی ہو گئی تو؟”
    جواب: غلطیوں سے گھبرائیں نہ۔ آرام سے غلطی کو درست کریں۔ صاف ستھرا کاٹ کر درست جواب لکھیں۔ غلطی درست کرنے کا طریقہ: ایک لکیر کھینچیں، درست جواب لکھیں، اپنے دستخط کریں۔ یاد رکھیں، ایک غلطی پورے پیپر کو خراب نہیں کرتی۔
  10. “اگر میرے دوست مجھ سے بہتر پیپر حل کر لیں تو ؟”
    جواب: اپنی کارکردگی پر توجہ دیں۔ مقابلہ صرف اپنے آپ سے کریں۔ روزانہ اپنی پیشرفت نوٹ کریں۔ مثلاً: “پچھلے ہفتے میں %60 سوالات درست کر پاتا تھا، اس ہفتے %75 کر رہا ہوں۔” اس طرح آپ اپنی بہتری دیکھ سکیں گے۔
  11. “اگر امتحان ہال میں میری طبیعت خراب ہو گئی تو؟”
    جواب: امتحان سے پہلے صحت کا خیال رکھیں۔ ضروری دوائیاں ساتھ رکھیں۔ سپروائزر کو مطلع کریں۔ امتحان سے پہلے کی تیاری: پانی کی بوتل، گلوکوز، ہیڈیک کی دوائی، اور کوئی دائمی بیماری ہو تو اس کی دوائی ساتھ رکھیں۔ صحت کا خاص خیال رکھیں اور متوازن غذا کھائیں۔
  12. “اگر کسی سوال کا جواب بھول گیا تو؟”
    جواب: پریشان نہ ہوں۔ دوسرے سوالات حل کریں۔ آخر میں وقت بچے تو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ “PACR” تکنیک استعمال کریں: P (Pause) – رکیں، A (Analyze) – تجزیہ کریں، C (Connect) – جوڑیں، R (Recall) – یاد کریں۔ متعلقہ معلومات لکھ کر جواب مکمل کریں۔
  13. “میں سلسلے وار جواب نہیں لکھ پاؤں گا؟”
    جواب: پہلے جواب کے پوائنٹس ذہن میں یا رف پیپر پر لکھیں۔ پھر ترتیب سے لکھیں۔ “PREP” تکنیک استعمال کریں: P (Point) – مرکزی نکتہ، R (Reason) – وجہ، E (Example) – مثال، P (Point) – نتیجہ۔ اس سے آپ کا جواب منظم ہوگا۔
  14. “میرا خط ،تحریر خراب ہے، کیا کروں؟”
    جواب: صاف اور واضح لکھنے کی مشق کریں۔ پوائنٹس کو الگ الگ پیراگراف میں لکھیں۔ روزانہ 15 منٹ خوشخطی کی مشق کریں۔ پیراگراف کے درمیان لائن چھوڑیں۔ بڑے اور واضح حروف استعمال کریں۔
  15. “اگر پیپر مشکل آیا تو؟”
    جواب: پچھلے سالوں کے پیپرز دیکھیں۔ مختلف قسم کے سوالات کی تیاری کریں۔ “STAR” تکنیک استعمال کریں: S (Scan) – سوال کو اچھی طرح پڑھیں، T (Think) – سوچیں، A (Attempt) – حل کریں، R (Review) – چیک کریں۔ مشکل سوالات کو آخر پر چھوڑ دیں۔
  16. “میں امتحان ہال میں گھبرا جاؤں گا؟”
    جواب: مثبت سوچیں۔ گہری سانس لیں۔ پہلے سے امتحان ہال کا ماحول سمجھیں۔ “CALM” تکنیک استعمال کریں: C (Cool) – ٹھنڈے دماغ سے سوچیں، A (Analyze) – تجزیہ کریں، L (Logic) – منطقی سوچیں، M (Manage) – وقت کا بہتر استعمال کریں۔
  17. “اگر میرے دوست بہتر نمبر سے کامیاب ہوگئے تو؟”
    جواب: ہر طالب علم کی اپنی صلاحیت ہوتی ہے۔ دوسروں سے مقابلہ نہ کریں۔ اپنی روزانہ کی کارکردگی کا چارٹ بنائیں۔ مثلاً: جو چیپٹر آپ نے پڑھے، جو سوالات حل کیے، جو ٹیسٹ دیے۔ اس سے آپ کو اپنی پیشرفت کا پتہ چلے گا۔
  18. “مجھے سارے فارمولے یاد نہیں ہوتے ہے؟

جواب: فارمولے کو سمجھ کر یاد کریں۔ روزانہ ریویژن کریں۔ منیماونک تکنیک استعمال کریں۔ فارمولوں کو چھوٹی چھوٹی کہانیوں سے جوڑیں۔ فارمولے کارڈز بنائیں اور انہیں اپنے کمرے میں لگائیں۔ ہر فارمولے کی پریکٹس کریں۔

19.”اگر میں امتحان ہال میں جانے کے لئے لیٹ ہو گیا تو؟”
جواب: امتحان سے پہلے راستہ چیک کریں۔ وقت سے پہلے نکلیں۔ ٹریفک کا خیال رکھیں۔ “TIME” تکنیک استعمال کریں: T (Test Centre) – امتحانی مرکز کا پتہ چیک کریں، I (Information) – ضروری معلومات اکٹھی کریں، M (Map) – راستہ دیکھیں، E (Early) – وقت سے پہلے نکلیں۔ امتحان سے ایک دن پہلے امتحانی مرکز تک کا راستہ چیک کر لیں۔

  1. ” کیا میں سب کی توقعات پوری کر پاؤ گا؟
    جواب: اپنی بہترین کوشش کریں۔ دوسروں کی توقعات کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر توجہ دیں۔ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو نوٹ کریں اور ان پر خوش ہوں۔ ایک ڈائری رکھیں جس میں اپنی روزانہ کی کامیابیاں لکھیں۔ یہ آپ کے اعتماد کو بڑھانے میں مدد کرے گی۔ یاد رکھیں، ہر انسان اپنی جگہ منفرد ہے۔

بورڈ امتحانات میں کامیابی کے لیے صرف تعلیمی تیاری ہی کافی نہیں، بلکہ ذہنی تیاری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ خوف اور پریشانی کو دور کر کے، منظم انداز میں تیاری کر کے، اور مثبت سوچ اپنا کر طالب علم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading