مولانا محمد علی جوہر- جدوجہد آزادی کا بے باک سپاہی

Advertisements
تحریر- عبداللہ رضا

مولانا محمد علی جوہر برصغیر پاک و ہند کے مشہور سیاستدان، صحافی، مصنف، اور تحریک آزادی کے اہم رہنما تھے۔ وہ 10 دسمبر 1878 کو رام پور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز مسلم خاندان سے تھا، اور وہ علی برادران  میں سے ایک تھے، جو خلافت تحریک کے لیے مشہور ہیں۔

مولانا محمد علی جوہر 4 جنوری 1931 کو لندن میں انتقال کر گئے۔ ان کی آخری خواہش تھی کہ انہیں سرزمینِ بیت المقدس میں دفن کیا جائے، اور انہیں القدس شریف میں دفن کیا گیا۔

مولانا محمد علی جوہر کو ان کی شخصیت، خدمات اور جدوجہد کی وجہ سے کئی القابات سے نوازا گیا۔ ان کے مشہور القابات درج ذیل ہیں:

1. مولانا:
یہ لقب ان کے علمی مقام اور دینی معلومات کی گہرائی کی وجہ سے دیا گیا۔

2. محمد علی جوہر:
“جوہر” ان کا تخلص تھا جو انہوں نے اپنی شاعری اور تحریروں کے لیے استعمال کیا۔

3. شیرِ دہلی:
یہ لقب ان کی بہادری اور سامراج کے خلاف انقلابی کردار کی وجہ سے دیا گیا۔

4. امامِ خلافت:
خلافت تحریک میں ان کے اہم کردار کی بنیاد پر انہیں یہ لقب دیا گیا۔

5. رہبرِ ملت:
مسلمانوں کے حقوق اور ان کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرنے کی وجہ سے یہ لقب انہیں دیا گیا۔

6. مردِ حق:
ان کی حق گوئی، اصول پسندی، اور استقامت کو دیکھتے ہوئے یہ لقب دیا گیا۔

یہ القابات مولانا کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی تاریخی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔

مولانا محمد علی جوہر صحافت کے میدان میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے برطانوی سامراج کے خلاف آواز بلند کی اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے چند مشہور اخبارات درج ذیل ہیں:

1. ہمدرد

یہ اردو زبان میں شائع ہونے والا ایک معروف اخبار تھا۔

اس کا مقصد مسلمانوں میں سیاسی شعور اجاگر کرنا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔

یہ اخبار مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، اور سیاسی ترقی کا ذریعہ بنا۔

2. کامریڈ

یہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والا ایک انقلابی اخبار تھا۔

اس کے ذریعے مولانا نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔

کامریڈ کی زبان اور مواد بین الاقوامی معیار کے مطابق تھے، جس کی وجہ سے یہ اخبار اعلیٰ طبقے اور عالمی سامعین میں مقبول تھا۔

3. اردوئے معلیٰ

یہ ایک اور اخبار تھا جس کا مقصد مسلمانوں کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کو اجاگر کرنا تھا۔

اہمیت

مولانا کے اخبارات اس وقت کے مسلمانوں کے لیے علم اور شعور کی روشنی ثابت ہوئے۔ ان کے ذریعے انہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف رائے عامہ ہموار کی اور مسلمانوں کو اپنی سیاسی اور سماجی حیثیت کا احساس دلایا۔

مولانا کی صحافت ان کی بے خوف شخصیت اور مسلمانوں کی خدمت کے عزم کی عکاس تھی۔

مولانا محمد علی جوہر صحافت کے میدان میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے برطانوی سامراج کے خلاف آواز بلند کی اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے چند مشہور اخبارات درج ذیل ہیں:

1. ہمدرد

یہ اردو زبان میں شائع ہونے والا ایک معروف اخبار تھا۔

اس کا مقصد مسلمانوں میں سیاسی شعور اجاگر کرنا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔

یہ اخبار مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، اور سیاسی ترقی کا ذریعہ بنا۔

2. کامریڈ

یہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والا ایک انقلابی اخبار تھا۔

اس کے ذریعے مولانا نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔

کامریڈ کی زبان اور مواد بین الاقوامی معیار کے مطابق تھے، جس کی وجہ سے یہ اخبار اعلیٰ طبقے اور عالمی سامعین میں مقبول تھا۔

3. اردوئے معلیٰ

یہ ایک اور اخبار تھا جس کا مقصد مسلمانوں کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کو اجاگر کرنا تھا۔

اہمیت

مولانا کے اخبارات اس وقت کے مسلمانوں کے لیے علم اور شعور کی روشنی ثابت ہوئے۔ ان کے ذریعے انہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف رائے عامہ ہموار کی اور مسلمانوں کو اپنی سیاسی اور سماجی حیثیت کا احساس دلایا۔

مولانا کی صحافت ان کی بے خوف شخصیت اور مسلمانوں کی خدمت کے عزم کی عکاس تھی۔

اگر  مولانا محمد علی جوہر کے ذکر کے ساتھ ان کی والدہ بی اماں (عبادی بیگم) کا ذکر نہ کرنا واقعی ایک ناانصافی ہوگی۔ بی اماں نہ صرف مولانا محمد علی جوہر بلکہ ان کے بھائی مولانا شوکت علی کی تربیت اور جدوجہد میں ایک مضبوط روحانی اور اخلاقی سہارا تھیں۔

بی اماں کا تعارف

بی اماں 1850 کے قریب رام پور میں پیدا ہوئیں۔ وہ تعلیم یافتہ نہ تھیں، لیکن ان کی فکری بلندی اور دور اندیشی مثالی تھی۔ انہوں نے اپنی تمام تر زندگی اپنے بیٹوں کو دین اور ملت کے لیے وقف کرنے کی تربیت دی۔

بی اماں کا کردار

1. اولاد کی تربیت:
بی اماں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی ایسی تربیت کی کہ وہ ملت اسلامیہ کے عظیم رہنما بنے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹوں کو دین، اخلاق، اور آزادی کی جدوجہد کی تلقین کی۔

2. خلافت تحریک میں شرکت:
بی اماں نے برصغیر کی تحریکِ آزادی، خصوصاً خلافت تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ خواتین کے جلسوں میں شرکت کرتیں اور مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کرتیں۔

3. حوصلہ افزائی:
جب مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے، بی اماں نے ہمیشہ ان کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی تلقین کی۔

بی اماں کے مشہور الفاظ

جب ان کے بیٹوں کو جیل میں ڈال دیا گیا تو بی اماں نے کہا:
“اگر میرے بیٹے قوم کے کام آئیں تو یہ میرے لیے فخر کی بات ہوگی۔”

بی اماں کی وفات

بی اماں نے اپنی زندگی ملت کی خدمت میں گزاری اور 13 نومبر 1924 کو انتقال کر گئیں۔ ان کی شخصیت اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

بی اماں کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک عظیم ماں کس طرح قوم کے رہنماؤں کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کی جدوجہد میں بی اماں کا کردار ایک مضبوط ستون کی مانند تھا۔

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading