بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم، تکنیکی مہارتیں اور اخلاقی تربیت

Advertisements

عبداللہ رضا



تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، جو نہ صرف فرد کی ذہنی نشوونما کرتی ہے بلکہ قوم کی اجتماعی ترقی کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ اگر ہم صرف بنیادی تعلیم تک محدود رہیں تو ہم صرف حروف کی شناخت اور عمومی معلومات تک پہنچ سکتے ہیں، مگر ایک پائیدار، خود کفیل اور بامقصد زندگی گزارنے کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم، تکنیکی مہارتیں اور اخلاقی تربیت بھی نہایت ضروری ہیں تاکہ فرد نہ صرف معیاری زندگی گزار سکے بلکہ معاشرے کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔

بنیادی تعلیم ہمیں پڑھنا، لکھنا، حساب کرنا اور دنیا کو سمجھنے کی ابتدائی بصیرت عطا کرتی ہے۔ ایک بچہ جب اسکول میں داخل ہوتا ہے تو وہ الفاظ کی پہچان سے شروع کرتا ہے، اور رفتہ رفتہ تاریخ، جغرافیہ، سائنس، ادب اور دیگر مضامین کے ذریعے اپنی سوچ کو وسعت دیتا ہے۔ مگر یہ علم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اسے عملی زندگی سے جوڑ کر پیش نہ کیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیشہ وارانہ تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

پیشہ وارانہ تعلیم ایک ایسا میدان ہے جو طالب علم کو کسی خاص فن، ہنر یا شعبے میں مہارت حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ جیسے کہ الیکٹریشن، پلمبر، ٹیکنیشن، کمپیوٹر آپریٹر، ڈرائیور، نرسنگ یا درزی وغیرہ۔ ایک نوجوان جو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی پیشے میں مہارت حاصل کرتا ہے، وہ جلد از جلد اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان جو دسویں جماعت کے بعد الیکٹریشن کا کورس مکمل کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنی روزی کما سکتا ہے بلکہ دوسرے افراد کو بھی روزگار فراہم کر سکتا ہے۔

اسی طرح آج کے دور میں تکنیکی مہارتوں کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، کوڈنگ، ویب ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ایپ ڈیویلپمنٹ، اور دیگر سائنسی مہارتیں آج کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ ایک لڑکی جو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائننگ سیکھتی ہے، وہ گھر بیٹھے آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کر سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی خدمات پیش کر سکتی ہے۔ یہ تکنیکی مہارتیں نہ صرف نوجوانوں کو خود کفیل بناتی ہیں بلکہ ملک کی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔

مگر ایک اہم پہلو جو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ ہے اخلاقی تربیت۔ علم اور ہنر تبھی بابرکت بنتے ہیں جب ان کے ساتھ اخلاقی اقدار بھی ہوں۔ دیانتداری، ایمانداری، وقت کی پابندی، شفقت، احترام، صبر اور عدل وہ اصول ہیں جو ایک فرد کو مکمل انسان بناتے ہیں۔ اگر ایک شخص بہت ہنرمند ہو مگر جھوٹا، بددیانت یا خود غرض ہو، تو اس کا علم اور ہنر معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہمیں ایسے واقعات بھی نظر آتے ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے بدعنوانی، دھوکہ دہی یا ناانصافی سے معاشرے کو نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف ایک سادہ مگر بااخلاق فرد کا طرزِ عمل معاشرے میں سکون، بھروسہ اور استحکام لاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر جو اخلاقیات سے عاری ہو، وہ مریضوں کے ساتھ کاروباری رویہ رکھے گا، جبکہ ایک بااخلاق ڈاکٹر نہ صرف خدمت کو ترجیح دے گا بلکہ مریض کی جذباتی کیفیت کو بھی سمجھے گا۔ ایک استاد جو صرف مضمون پڑھائے مگر طلبا کی کردار سازی نہ کرے، وہ قوم کے معمار نہیں بلکہ صرف رٹا لگانے والے طالب علم پیدا کرے گا۔ اس کے برعکس، ایک ایسا استاد جو علم کے ساتھ ساتھ سچائی، انصاف، محنت اور قربانی جیسے اخلاق سکھائے، وہ قوم کو عظمت کی طرف لے جائے گا۔

لہٰذا، ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اس نہج پر لانا ہوگا جہاں بنیادی تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ تربیت، تکنیکی مہارت اور اخلاقی اقدار کا حسین امتزاج ہو۔ تعلیمی اداروں میں صرف نصاب پڑھانا کافی نہیں، بلکہ طلبا کو عملی تجربات، فنی تربیت اور کردار سازی کی مشقیں بھی دینا ہوں گی۔ معاشرہ اس وقت ترقی کرے گا جب ہم کتابی علم کے ساتھ زندگی کے حقیقی سبق بھی سکھائیں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ صرف الف، ب، پ سیکھنے سے انسان کامیاب نہیں ہوتا، بلکہ کامیابی کی اصل کنجی اس کے علم، ہنر اور کردار کے امتزاج میں ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو تعلیم کو صرف ڈگری یا نوکری کے لیے حاصل کرے، وہ کبھی مکمل ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیم کو ایک مکمل انسانی تجربہ بنائیں، جو دماغ، ہاتھ اور دل تینوں کو سنوارے۔ یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور قوم کو عظیم بناتی ہے۔

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading