از : طٰہٰ عرف ثناء جمیل احمد نلاّمندو معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا
انسان کی شخصیت کا اصل حسن اس کی گفتار اور کردار میں چھپا ہوتا ہے۔ لیکن اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ہم ہر بات پر فوراً ردعمل دینے کو اپنی عزت یا غیرت کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔ چاہے وہ بات اہم ہو یا بے فائدہ، لوگ فوراً جواب دینے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بات پر ردعمل دینا نہ تو عقلمندی ہے اور نہ ہی دانائی۔
خردمند انسان جانتا ہے کہ کون سی بات پر خاموش رہنا بہتر ہے اور کہاں زبان کھولنی ہے۔ بعض اوقات دشمن یا حسد کرنے والے صرف اس لیے بات کرتے ہیں تاکہ ہم جواب دے کر الجھ جائیں، وقت اور سکون برباد ہو۔ اگر ہم خاموش رہیں تو نہ صرف دل کا سکون باقی رہتا ہے بلکہ دوسرے کو بھی احساس ہوتا ہے کہ اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
خاموشی ایک طاقت ہے۔ یہ انسان کے صبر، تحمل اور اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ قرآن مجید میں بھی ہمیں صبر اور ضبط نفس کی تلقین کی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
“جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔”
لہٰذا ہر موقع پر ردعمل دینا ہماری کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، لیکن موقع محل دیکھ کر بات کرنا ہماری دانائی اور مضبوط شخصیت کی پہچان ہے۔
ہمیں چاہیے کہ زندگی میں غیر ضروری باتوں کو نظرانداز کرنا سیکھیں۔ خاموشی اختیار کر کے اپنے عمل سے جواب دیں، کیونکہ بعض اوقات “خاموشی” سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔

