از قلم : محمد شہزاد جامعی
(خادم مدرسہ ہدایت الاسلام مسجد عائشہ سلوڑ ضلع اورنگ آباد )
زندگی کے سفر میں ہر شخص کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی زاویے سے تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔
کبھی عمل پر، کبھی اندازِ گفتگو پر، اور کبھی محض اس لیے کہ وہ کچھ کر رہا ہے۔
یہ انسانی معاشرے کی ایک فطری کمزوری ہے کہ لوگ اکثر کرنے والے پر نہیں، کہنے والے پر راضی ہوتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ تنقید اگر عدل اور خیرخواہی کی بنیاد پر نہ ہو،
تو وہ اصلاح نہیں، اذیت بن جاتی ہے۔
تنقید اور تحریر کا رشتہ
تحریر دراصل فکر کا چہرہ ہے۔
جو کچھ دل میں ہوتا ہے، وہ قلم کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔
لیکن افسوس کہ آج بہت سے قلم محض اعتراض کی نوک بن کر رہ گئے ہیں۔
کچھ لکھنے والے ایسے ہیں جو اصلاح کے درد سے نہیں بلکہ مخالفت کے شوق سے لکھتے ہیں۔
ان کے مضامین بڑے ہوتے ہیں مگر دل چھوٹے،
الفاظ اونچے ہوتے ہیں مگر نیتیں نیچی،
اور مقصد علم نہیں بلکہ نکتہ چینی ہوتا ہے۔
ایسی تحریریں وقتی شور تو پیدا کر دیتی ہیں،
مگر ان سے نہ دل بیدار ہوتا ہے نہ ذہن روشن۔
کسی صاحبِ علم نے کیا خوب کہا
وہ قلم جو دل توڑ دے، وہ علم نہیں، زہر ہے؛
اور وہ تحریر جو کسی کی ہمت توڑ دے، وہ اصلاح نہیں، انتقام ہے۔”
بےجا نکیر دلوں کا زوال
خواہ مخواہ نکیر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی فہم و بصیرت رکھتا ہے،
بلکہ اکثر یہ اس کی ناپختگی، حسد، یا خود پسندی کی علامت ہوتی ہے۔
قرآن نے جہاں “امر بالمعروف” کی دعوت دی ہے، وہیں “نہی عن المنکر” کا اصول بھی عدل کے ساتھ رکھا ہے۔
یعنی انکار وہاں ہو جہاں شرعاً انکار ضروری ہو،
نہ کہ ہر اختلاف کو “منکر” سمجھ لیا جائے۔
جو لوگ ہر نیک کوشش میں عیب ڈھونڈتے ہیں،
وہ دراصل اپنی روح کی گہرائیوں میں اندھیرے لے کر چل رہے ہوتے ہیں۔
ان کے دل میں روشنی کم، مقابلے کا دھواں زیادہ ہوتا ہے۔
ادب کا تقاضا توازن و تحمل
ادب یہ نہیں کہ آدمی ہر تحریر سے متفق ہو،
بلکہ یہ ہے کہ اختلاف بھی احترام کے ساتھ کرے۔
تنقید وہی معتبر ہے جس میں
دل کی نرمی، دلیل کی طاقت، اور نیت کی صفائی جمع ہو۔
ورنہ محض اعتراض، علم کی خدمت نہیں بلکہ اس کی بےقدری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اہلِ قلم میں ہمیشہ دو طبقات رہے:
ایک وہ جو لکھتے ہیں لوگوں کو جوڑنے کے لیے،
اور دوسرے وہ جو لکھتے ہیں لوگوں کو توڑنے کے لیے۔
پہلا طبقہ وقت گزرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے،
جبکہ دوسرا شور مچاتا ہے اور پھر خاموشی میں گم ہو جاتا ہے۔
قلم کی امانت
قلم امانت ہے، جذبات کا ہتھیار نہیں۔
جس کے ہاتھ میں قلم ہو، اس کے دل میں انصاف ہونا چاہیے۔
قرآن نے قلم کی قسم کھائی، مگر کسی کی رائے کی نہیں۔
اس سے اشارہ ملتا ہے کہ قلم جب عدل سے ہٹے، تو برکت چھن جاتی ہے۔
بےجا اعتراض، بےموقع تنقید، اور غیرضروری تحریری حملے
یہ سب اس امانت کی توہین ہیں۔
جو شخص اپنی تحریر کے ذریعے دوسروں کی محنتوں پر مٹی ڈالنا چاہتا ہے،
وہ دراصل اپنی نیکیوں پر مٹی ڈال رہا ہوتا ہے۔
زمانہ بدلتا ہے، مگر دلوں کے زخم دیر سے بھرتے ہیں۔
اس لیے ہر صاحبِ رائے اور اہلِ قلم کو چاہیے کہ
وہ لکھنے سے پہلے دل صاف کرے، نیت درست کرے، اور نرمی اپنائے۔
مصیحت کا انداز وہی مؤثر ہوتا ہے جو احترام کے پیرہن میں لپٹا ہو۔
کیونکہ نرم بات دل میں اتر جاتی ہے،
اور سخت بات دل کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
دورِ حاضر کو شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے؛
زبانوں کے تیر نہیں، دلوں کے چراغ چاہیے۔
آؤ مل کر قلم کو وہ تقدس واپس لوٹائیں جو کبھی اکابرِ امت کی نشانی تھا
جہاں لفظوں سے زخم نہیں، مرہم ٹپکتا تھا۔
ایک نظر ادھر بھی 👇👇👇
کچھ ہم زمانہ صرف اس وجہ سے نکیر کرتے ہیں کہ “ابھی کا ہے، ہمارے بعد کا ہے، ہم سے آگے کیسے؟”
یہ اعتراض نہیں، دراصل احساسِ محرومی کی چیخ ہے۔
ایسے دل علم سے نہیں، مقابلے کے زہر سے بھرے ہوتے ہیں۔
جو روشنی کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر جل جائے،
وہ دراصل اپنے اندھیرے کا ماتم کر رہا ہوتا ہے۔
اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ فضیلت عطا کرنے والا رب ہے،
اس لیے وہ خوش ہوتے ہیں جب کسی کو آگے بڑھتا دیکھتے ہیں۔
حسد کرنے والا ہمیشہ جلتا ہے،
اور جلنے والا کبھی چراغ نہیں بن سکتا۔
18/ربیع الثانی ۔ 1447ھ 10/10/2025
نکیر کا مزاج اور تنقید کا توازن

Advertisements
