عبداللہ رضا
مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کی تاریخ کا وہ روشن نام ہیں جنہوں نے قلم اور فکر کے ذریعے آزادی، تعلیم اور اتحاد کا پیغام عام کیا۔ ان کا اصل نام مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد تھا۔ 11 نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور کلکتہ میں تعلیم و تربیت پائی۔

ابتدائی عمر ہی سے علمی شوق اور دینی بصیرت ان کے اندر نمایاں تھی۔ انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ اور منطق میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔ ان کی طبیعت آزاد خیالی، تحقیق پسندی اور اصلاحی فکر سے معمور تھی۔
مولانا آزاد نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے قوم میں بیداری پیدا کی۔ انہوں نے “الہلال” اور “البلاغ” جیسے جریدوں کے ذریعے عوام کے دلوں میں آزادی کی چنگاری روشن کی۔ ان کی تحریریں صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک تحریک تھیں جو غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن گئیں۔
سیاسی میدان میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر رہے اور گاندھی جی کے ہمراہ آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد اور قومی یکجہتی کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔
آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کو ملک کا پہلا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔ ان کی کوششوں سے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد رکھی گئی۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، آئی آئی ٹیز اور ساہتیہ اکیڈمی جیسے ادارے ان کی بصیرت کا نتیجہ ہیں۔
ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کا مقصد محض روزگار نہیں بلکہ انسانیت کی تعمیر ہے۔ وہ کہا کرتے تھے:
“تعلیم انسان کو محض علم نہیں دیتی بلکہ اسے خود شناس بناتی ہے۔”
22 فروری 1958ء کو وہ دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کے افکار آج بھی زندہ ہیں۔ جامع مسجد دہلی کے قریب ان کا مزار آج بھی علم و فکر کے متوالوں کے لیے چراغِ راہ ہے۔
ان کی یاد میں ہر سال 11 نومبر کو “یومِ تعلیم” منایا جاتا ہے تاکہ نئی نسل کو علم کی اہمیت اور مولانا آزاد کے پیغام سے روشناس کرایا جا سکے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت بندوق یا دولت نہیں، بلکہ علم اور اتحاد ہے۔

