ممتاز ترین ترقی پسند شاعروں میں نمایاں، نقاد، دانشور اور رسالہ ’گفتگو‘ کے مدیر، گیان پیٹھ انعام سے سرفراز، علی سردار جعفری کا یوم وفات

Advertisements

….یکم اگست

ترقی پسند ادباء و شعراء میں سردار جعفری صاحب کو بہت بلند مقام حاصل تھا…موصوف نے عشق و محبت…آزادی…حب الوطنی…نا انصافی غرض کہ ہر موضوع پر بے شمار اشعار کہے ہیں…نظم ہو یا غزل جو بھی کہا ہے بے انتہا معیاری اور با مقصد کہا ہے…
آج جعفری صاحب کے یوم وفات کے موقع پر موصوف کچھ منتخب و منفرد اشعار احباب باذوق کی خدمت میں پیش ہیں…

انتخاب و پیشکش…طارق اسلم

‏اے وطن پیارے وطن! وہ بھی تجھے دے دینگے
بچ گیا ہے جو لہُو، پچھلے فسادات کے بعد

بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے
وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا

‏دیکھئیے دن پھرتے ہیں کب، دیکھئیے پھر کب ملتے ہیں
دل سے دل، آنکھوں سے آنکھیں، ہاتھ سے ہاتھ اور لب سے لب

دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا
اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے

دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریب
تصورات کہن کے قدیم بت خانے

انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں

اسی دنیا میں دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
شیخ جی تم بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری
کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے

‏مصلحت وقت کی اقرار سکھائے لیکن
دل میں ہو جرأتِ انکار تو ہے لطف سخن

کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میں
لب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو

مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہے
وہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہے

پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن
سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے
پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا

سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
ہم کو آوارگی ہی راس آئی

‏شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت
مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے

شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

ابھی اور تیز کر لے سرِ خنجر ادا کو
میرے خون کی ہے ضرورت تیری شوخیِ حنا کو

تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہ
میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے

یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

‏مٹتے مٹتے دے گئے ہم زندگی کو رنگ و نور
رفتہ رفتہ بن گئے اس عہد کا افسانہ ہم

یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدست
وہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثواب

یہ تیراگلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہے
نغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہے

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading