مصنوعی ذہانت کا دور اور قرآن و حدیث کے حوالہ جات کی تشہیر: ایک اہم احتیاط

Advertisements


عبداللہ رضا
اہل علم و دانش حضرات سے گذارش ہے کہ تکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں براہ کرم قرآن و حدیث کے حوالہ جات کی تشہیر کے لیے ان کا استعمال نہ کریں۔ بظاہر مصنوعی ذہانت والی مشینیں بہترین مواد و پیغامات کی ترسیل کریں لیکن ان کی تصدیق و تحقیق قابل اعتبار نہیں سمجھی جائے۔ جب تک کہ خصوصاً قرآن و حدیث کے حوالہ جات بذات خود ہمارے مطالعہ سے نہ گزریں۔
مصنوعی ذہانت ایک معاون ٹول (ذریعہ) ہو سکتا ہے لیکن اصل علم کا نعم البدل نہیں ۔۔۔۔
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ معلومات کی فراہمی اور ترسیل کی رفتار حیرت انگیز حد تک بڑھ چکی ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس تیز رفتار ترقی کے دور میں جہاں علمی فوائد موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین خطرات بھی سامنے آتے ہیں، خاص طور پر جب بات قرآن و حدیث جیسے مقدس اور حساس مضامین کی ہو۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے آج بہت سے لوگ دینی موضوعات پر معلومات حاصل کرتے ہیں، لیکن یہاں ایک نہایت اہم اور سنجیدہ بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، کبھی بھی اصل علم کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ قرآن و حدیث کی معلومات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلانا بظاہر ایک مفید عمل معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ مواد کو فوری طور پر اور وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کوئی مستند ذریعہ علم نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو موجود مواد کی بنیاد پر جوابات تیار کرتا ہے۔ جب ہم قرآن و حدیث کے حوالے سے معلومات حاصل کرتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جو ضروری ہے، وہ ہے مواد کی صحت اور درستگی۔ اگر کوئی آیت قرآن کریم کی پیش کی جاتی ہے یا کوئی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا جاتا ہے، تو اس کی تصدیق اور تحقیق از حد ضروری ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت والے ماڈلز علمی مواد تک رسائی میں مدد فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کے جوابات اکثر اوقات سیاق و سباق سے ہٹ کر یا ادھورے ہوتے ہیں۔ ایک اور پہلو جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے سیاق و سباق کی غلط تشریح۔ قرآن مجید کی ہر آیت کا ایک مخصوص پس منظر ہوتا ہے اور اسے درست طور پر سمجھنے کے لیے علم تفسیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، احادیث مبارکہ کے بھی مختلف مراتب ہیں اور ان کی تصحیح، حسن، ضعیف یا موضوع ہونے کا تعین کرنے کے لیے علم حدیث کی گہری سمجھ ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت ان چیزوں کو مدنظر رکھنے میں اکثر ناکام رہتی ہے۔ مستند علماء کرام کا کردار یہاں اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے برسوں تک قرآن و سنت کا مطالعہ کیا ہے، ان کے علم اور فہم کو مصنوعی ذہانت کی سطح پر کبھی بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن و حدیث کی تشہیر اور وضاحت میں مستند علماء کی رہنمائی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ وہ ان نصوص کی اصل روح کو سمجھتے ہیں اور لوگوں کو درست رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ ایک اور پہلو جس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے وہ ہے تحقیق کی اہمیت۔ اگر کوئی شخص مصنوعی ذہانت یا انٹرنیٹ سے کوئی حوالہ حاصل کرتا ہے تو اس کا اصل ماخذ اور تصدیق کیے بغیر اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ خود مطالعہ کرنا، مستند کتب کا حوالہ لینا، اور علمائے کرام سے رہنمائی حاصل کرنا ایک اہم فریضہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کو صرف معلومات کی ترسیل تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ ان کی تعلیمات کو عملی زندگی میں بھی اپنانا ضروری ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کے حقیقی فہم اور روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے گہرے مطالعے، تحقیق، اور صحیح ماخذ کی طرف رجوع کرنا لازم ہے۔    آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی ایک مفید ذریعہ ہے اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔ قرآن و حدیث کے علم کی تبلیغ کے لیے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹولز کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ان کا استعمال انتہائی احتیاط، ذمہ داری، اور علمی معیار کے ساتھ ہو۔ بغیر تحقیق کے کسی بھی معلومات کو عام کرنا نہ صرف گمراہی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی غلط فہمیوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔۔   لہٰذا، ہم سب پر لازم ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا استعمال تو کریں، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ علم کی حقیقت صرف تحقیق اور مستند ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک معاون ٹول تو ہو سکتا ہے، لیکن اصل علم کا نعم البدل کبھی نہیں۔

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading