مجذوب، خواجہ عزیز الحسن غوری صاحب

Advertisements

یوم وفات…17 اگست

نام خواجہ عزیز الحسن غوری، تخلص مجذوب۔ تاریخی نام مرغوب احمد۔ ۱۲؍جون ۱۸۸۴ء کو ادرئی ، ضلع جالوں (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ تربیت خالص دینی اور مشرقی طرز پر ہوئی۔ علی گڑھ سے بی اے کیا۔ ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ خواجہ صاحب نے قانون چھوڑ کر پہلے آبکاری میں نوکری کی۔ اس نوکری سے مستعفی ہو کر ڈپٹی کلکٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سات برس اس عہدے پر رہے۔ چوں کہ یہ عہدہ ان کی طبیعت کے خلاف تھا اس لیے کوشش کرکے اپنا تبادلہ تنخواہ کی کمی پر محکمہ تعلیم میں کرالیا۔ پہلے مکاتب اسلامیہ کے ڈپٹی انسپکٹر مقرر ہوئے پھرانگریزی اسکولوں کے انسپکٹر آف اسکولز(یوپی) مقررہوئے اور اسی عہدے سے پنشن پاکر ریٹائر ہوئے۔ شاعری میں کسی سے تلمذنہ تھا۔ عزیز الحسن غوری حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ ان میں خاکساری اور تواضع کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ انھوں نے انگریزی کپڑے کبھی نہیں پہنے۔ ڈپٹی کلکٹری اور انسپکٹری میں بھی اپنی وضع نہیں بدلی۔ ۱۷؍اگست کو ادرئی میں انتقال کرگئے۔ ان کا کلام ’’گفتۂ مجذوب‘‘ کے نام سے ۱۹۸۰ء میں شائع ہوا ۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:301

موصوف کے یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہے

*انتخاب و پیشکش….طارق اسلم*

کیں بند جب آنکھیں تو مری کھل گئیں آنکھیں
کیا تم سے کہوں پھر مجھے کیا کیا نظر آیا

بھلاتا ہوں پھر بھی وہ یاد آ رہے ہیں
وہی چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں

ہمیں تو بھلے لگتے ہیں اور بھی اب
وہ زیور کو اپنے اتارے ہوئے ہیں

پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں
کوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیں

حسینوں سے وہی پھر حضرت دل دیدہ بازی ہے
ابھی تو کر رہے تھے آپ یہ دعویٰ نہ دیکھوں گا

وہ سب کے سامنے اس سادگی سے بیٹھے ہیں
کہ دل چرانے کا ان پر گماں نہیں ہوتا

دشمنیٔ خلق میری رہنما ہونے کو ہے
اب مرا دست طلب دست دعا ہونے کو ہے

سیکڑوں فکریں ہیں تم کو عاقلو
تم سے تو مجذوبؔ ہی بہتر رہا

لگاوٹ سے تری کیا دل کھلے معلوم ہے ہم کو
ذرا سی بات میں کھنچ کر ترا تلوار ہو جانا

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading