یومِ ولادت 2 اگست
نام محمدشرف الدین اور تخلص ساحلؔ ہے۔
02؍اگست 1949ء کو شہر ناگپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام حاجی محمد یٰسین تھا۔ آپ کا شمار ملک کے نامور شاعر، محققین اور نقاد میں ہوتا ہے۔ آپ 44 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ شاعری، تحقیق و تنقید، تاریخ، شرح و تفہیم اور دیگر موضوعات پر آپ کی کتابیں منظرعام پر آ چکی ہیں۔
ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ نے 1974ء میں اردو سے ایم اے، 1976ء میں فارسی زبان میں ایم اے اور 1978ء میں عربی سے ایم اے کیا۔ 1981ء میں بی ایڈ اور 1977ء اور 1986ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
انکی تصانیف:
دستِ کوہکن 1983ء، شرار جستہ 1985ء، حرا کی روشنی 1990ء، آئینہ سیما 1996ء، تازگی 1999ء، مقدس نعتیں 2003ء، آئینۂ حسنِ یقیں 2008ء، آئینۂ برگ گل 2010ء، آئینۂ تمثال 2014ء،
تحقیق و تنقید:
بیان میرٹھی: حیات و شاعری 1980ء، کامٹی کی ادبی تاریخ 1982ء، ناگپور میں اردو 1993ء، بیان میرٹھی اور غالب 1997ء، ناگپور میں فارسی 2002ء، خاقانی شروانی: حیات و شاعری 2002ء، عادل ناگپوری: شخص، شاعر، نثر نگار 2011ء، غمگین ناگپوری 2012ء، صفحۂ دست 2013ء وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
(بحوالہ _ویکیپیڈیا)
موصوف کے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں
انتخاب و پیشکش…. طارق اسلم
مربوط کامیابی ہے وارستگی کے ساتھ
رکھ راہ پر خطر میں قدم پختگی کے ساتھ
سوچ اپنی بدل رہا ہوں میں
کف افسوس مل رہا ہوں میں
دیکھیے انداز اس کی شوخیٔ تحریر کا
پیرہن ہی خاک ہے ہر پیکر تصویر کا
باعث راحت دل میرا مقدر نکلا
جس کو سمجھا تھا بیاباں وہ مرا گھر نکلا
ہجوم غم میں بہر حال مسکرانا ہے
ہوا کے رخ پہ چراغ یقیں جلانا ہے
موسم ہجر کی دل سوز نشانی دے گا
عشق کا درد ہی عنوان کہانی دے گا
الم کا بوجھ اٹھائے سفر میں رہتا ہے
جو بد نصیب مری چشم تر میں رہتا ہے
محفوظ نہیں ذوق ہوس دست فنا سے
قدرت نے نوازا ہے محبت کو بقا سے
بلائے جاں ہے ثمر بد حواس ہونے کا
نتیجہ دیکھ لو تم خود اداس ہونے کا
یہ کیسا ظلم و ستم بد قماش کرتا ہے
وہ بے گناہ کا دل پاش پاش کرتا ہے
جبین دل پہ ندامت کا داغ رہتا ہے
فلک پہ اس کا ہمیشہ دماغ رہتا ہے
دفعتاً ہو گئی گل شمع وفا تیرے بعد
خانۂ دل میں اجالا نہ ہوا تیرے بعد
شہر مظلوم میں اک شخص بھی برہم نہ ملا
خوف اتنا تھا کوئی پیکر ماتم نہ ملا
یوں مکافات عمل سب کچھ اٹھا کر لے گیا
سر پھرا سیلاب بستی کو بہا کر لے گیا

