جنم دن 18 اگست
انتخاب – طارق اسلم مالیگاؤں
گلزار جن کا اصل نام سمپورن سنگھ کالرا ہے،18 اگست 1934 کو غیر منقسم ہندوستان کے ضلع جہلم کے گاؤں دینہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام مکھن سنگھ تھا جو چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔گلزار کی والدہ کا انتقال تبھی ہو گیا تھا جب وہ دودھ پیتے بچے تھے اور سوتیلی ماں کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔اس لئے گلزار اپنا زیادہ وقت باپ کی دکان پر گزارتے تھے۔نصابی کتابوں سے ان کو زیادہ دلچسپی نہیں تھے اور انٹرمیڈئیٹ میں فیل بھی ہوئے لیکن ادب سے ان کو لڑکپن سے ہی گہرا لگاؤتھا اور رابندر ناتھ ٹیگور اور شرت چند ان کے پسندیدہ ادیب تھے۔دراصل اسی بنگلہ- پنجابی پیوند کاری سے جو شجر بارآور ہوا اس کا نام گلزار ہے۔
شاعر،افسانہ نگار،گیت کار،فلم اسکرپٹ رائٹر،ڈراما نویس،پروڈیوسر،مکالمہ نگار،ہدایت کار،دانشور،عاشق اور اپنے ہر میدان عمل میں اپنی انفرادیت اور جدّت طرازی کے لئے مشہور گلزار کی شخصیت عجوبہ روزگار ہے۔ان کا فن ،خواہ وہ نظم میں ہو یا نثر میں،دراصل زندگی کے مشاہدات کو شاعرانہ احساس کی پلکوں سے چن کر،انھیں حرف و صوت کا جامہ پہنانے کا طلسماتی عمل ہے۔ہندوستانی سنیماکے سب سے بڑے “دادا صاحب پھالکےایوارڈ”،ہالی وڈ کے آسکر ایوارڈ ،گریمی ایوارڈ،21 مرتبہ فلم فیر ایوارڈ،قومی یکجہتی کے اندرا گاندھی ایوارڈ ، ادب کے لئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور ہندوستان کے تیسرے سب سے بڑے سویلین خطاب پدم بھوشن سے نوازے جا چکے گلزار خود کو ادیب و شاعر کی حیثیت سے تسلیم کیا جانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ان کو معلوم ہے کہ کاغذ پر پختہ روشنائی سے چھپے لفظ کی عمر سلولائڈ پر مرتسم تصویروں اور آوازوں سے زیادہ پُر اثر اور دیرپا ہوتی ہے۔
موصوف کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں
*انتخاب و پیشکش…. طارق اسلم*
* وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے
* کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف
کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے
* عادتاً تم نے کر دیے وعدے
عادتاً ہم نے اعتبار کیا
* ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے
* ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں
رک کر اپنا ہی انتظار کیا
* میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو
مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے
* کوئی خاموش زخم لگتی ہے
زندگی ایک نظم لگتی ہے
* جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں
اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے
* خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں
* کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں
ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی
* کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا
آج کی داستاں ہماری ہے
* آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
* ایک ہی خواب نے ساری رات جگایا ہے
میں نے ہر کروٹ سونے کی کوشش کی
* دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی
* دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے
کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں
* تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں
* آپ نے اوروں سے کہا سب کچھ
ہم سے بھی کچھ کبھی کہیں کہتے
* راکھ کو بھی کرید کر دیکھو
ابھی جلتا ہو کوئی پل شاید
* آنکھوں کے پوچھنے سے لگا آگ کا پتہ
یوں چہرہ پھیر لینے سے چھپتا نہیں دھواں
* زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے
درد دل کا لباس ہوتا ہے
* یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں
سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی
* خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی
ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی
* ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسے
دل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا
* چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں
دل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں
* چولھے نہیں جلائے کہ بستی ہی جل گئی
کچھ روز ہو گئے ہیں اب اٹھتا نہیں دھواں
* کانچ کے پار ترے ہاتھ نظر آتے ہیں
کاش خوشبو کی طرح رنگ حنا کا ہوتا
* یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا
وگرنہ زندگی بھر کو رلا دیا ہوتا
* آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیں
مہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں
* یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں
* بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں
اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں
* رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے
دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں
* یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا
کوئی احساس تو دریا کی انا کا ہوتا
* اپنے ماضی کی جستجو میں بہار
پیلے پتے تلاش کرتی ہے
* آگ میں کیا کیا جلا ہے شب بھر
کتنی خوش رنگ دکھائی دی ہے

