عالم و شاعرعزیز لکھنوی کا یوم وفات

Advertisements

30 جولائی…

عزیزلکھنوی اپنے عہد میں اردو فارسی کے چند بڑے عالموں میں تصور کئے جاتے تھے ۔ ان کا نام مرزا محمد ہادی تھا ، 14 مارچ 1882 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے اسلاف شیراز سے ہندوستان آئے تھے ، پہلے کشمیر میں سکونت اختیار کی بعد میں شاہان اودھ کے دور حکومت میں لکھنؤ منتقل ہوگئے ۔ عزیز کا خاندان علم وفضل کیلئے مشہور تھا ۔ عزیزنے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ، سات برس کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا لیکن تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ۔ امین آباد ہائی اسکول میں اردو و فارسی پڑھائی بعد میں وہ علی محمد خاں مہاراجہ محمودآباد کے بچوں کے اتالیق مامور ہوئے اور ساری زندگی اسی سے وابستہ رہے ۔
عزیز نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ۔ غزل کے علاوہ نظم اور قصیدہ ان کے تخلیقی اظہار کی اہم صورتیں ہیں ۔ قصیدے میں وہ ایک امتیازی حثیت کے مالک ہیں ۔ شکوہ الفاظ ، علوتخیل ان کے قصائد کی خصوصیات ہیں ۔ شاعری میں صفی لکھنوی سے شاگردی کا شرف حاصل رہا ۔
عزیز لکھنوی کا یہ شعر اتنا مشہور ہوا کہ ایک طرح سے یہ ان کی پہچان بن گیا ۔
اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

موصوف کے یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں بطور خراج عقیدت پیش ہیں…..

انتخاب و پیشکش….طارق اسلم

خود چلے آؤ یا بلا بھیجو
رات اکیلے بسر نہیں ہوتی

زبان دل کی حقیقت کو کیا بیاں کرتی
کسی کا حال کسی سے کہا نہیں جاتا

آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری
دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا

جھوٹے وعدوں پر تھی اپنی زندگی
اب تو وہ بھی آسرا جاتا رہا

وہی حکایت دل تھی وہی شکایت دل
تھی ایک بات جہاں سے بھی ابتدا کرتے

ہجر کی رات کاٹنے والے
کیا کرے گا اگر سحر نہ ہوئی

ہے دل میں جوش حسرت رکتے نہیں ہیں آنسو
رستی ہوئی صراحی ٹوٹا ہوا سبو ہوں

عزیزؔ منہ سے وہ اپنے نقاب تو الٹیں
کریں گے جبر اگر دل پہ اختیار رہا

ہمیشہ تنکے ہی چنتے گزر گئی اپنی
مگر چمن میں کہیں آشیاں بنا نہ سکے

تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی
بات پر بات یاد آتی ہے

بے پیے واعظ کو میری رائے میں
مسجد جامع میں جانا ہی نہ تھا

اسی کو حشر کہتے ہیں جہاں دنیا ہو فریادی
یہی اے میر دیوان جزا کیا تیری محفل ہے

ہم تو دل ہی پر سمجھتے تھے بتوں کا اختیار
نسب کعبہ میں بھی اب تک ایک پتھر رہ گیا

لطف بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار
دل ہی اجڑ گیا کہ زمانہ اجڑ گیا

اتنا بھی بار خاطر گلشن نہ ہو کوئی
ٹوٹی وہ شاخ جس پہ مرا آشیانہ تھا

بے خودی کوچۂ جاناں میں لیے جاتی ہے
دیکھیے کون مجھے میری خبر دیتا ہے

بتاؤ ایسے مریضوں کا ہے علاج کوئی
کہ جن سے حال بھی اپنا بیاں نہیں ہوتا

مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت
جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی

شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا
یادگار‌ حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا

قتل اور مجھ سے سخت جاں کا قتل
تیغ دیکھو ذرا کمر دیکھو……..!

ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی
اب تو دن رات یاد آتی ہے

دعائیں مانگی ہیں ساقی نے کھول کر زلفیں
بسان دست کرم ابر دجلہ بار برس

تمہیں ہنستے ہوئے دیکھا ہے جب سے
مجھے رونے کی عادت ہو گئی ہے

نزع کا وقت ہے بیٹھا ہے سرہانے کوئی
وقت اب وہ ہے کہ مرنا ہمیں منظور نہیں

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading