طلبہ کی اصلاح میں اساتذہ کا طرزِ گفتگو

Advertisements


(محمود نواز)

تدریس کے عمل میں اصلاح ایک لازمی مرحلہ ہے، مگر ہمارے تعلیمی نظام میں اکثر اصلاح کا مطلب صرف غلطی نکال لینا سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلاح کا طریقہ، لہجہ اور الفاظ طالب علم پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ ہندوستانی تعلیمی ماحول میں طالب علم پہلے ہی امتحانات کے دباؤ، گھریلو حالات اور مضمون کے خوف سے گزرتا ہے، ایسے میں استاد کا ایک سخت یا غیر محتاط جملہ اس کے اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔

اکثر اساتذہ لاعلمی میں ایسے جملے استعمال کر جاتے ہیں جیسے “میں تمہیں کتنی بار سمجھا چکا ہوں” یا “کیا صرف تم ہی کو سمجھ نہیں آ رہا؟” بظاہر یہ عام باتیں لگتی ہیں، مگر طالب علم کے ذہن میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ کمزور یا نالائق ہے۔ نتیجتاً وہ سوال پوچھنے سے گھبرانے لگتا ہے اور سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ استاد دوبارہ سمجھانے کو بوجھ نہ سمجھے بلکہ اسے تدریس کا حصہ مانے اور سادہ انداز میں کہے کہ چلو ایک بار پھر دیکھ لیتے ہیں۔

اسی طرح “تم ہمیشہ یہی غلطی کرتے ہو” یا “تمہیں تو یہ آنا چاہیے تھا” جیسے جملے اصلاح کے بجائے فیصلہ سنانے کے مترادف ہوتے ہیں۔ ایسے الفاظ طالب علم کو بدلنے کی امید سے محروم کر دیتے ہیں، حالانکہ اکثر غلطی کی وجہ تھکن، الجھن یا توجہ کی کمی ہوتی ہے۔ استاد اگر یہ کہے کہ اس جگہ تھوڑا دھیان دینے کی ضرورت ہے یا آؤ اسے صحیح طریقے سے کر لیتے ہیں تو طالب علم خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔

کلاس روم میں دھمکی آمیز جملے، جیسے “دوبارہ ایسا کیا تو دیکھ لینا”، وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتے ہیں مگر سیکھنے کا ماحول خراب کر دیتے ہیں۔ نظم و ضبط خوف سے نہیں بلکہ واضح اصول اور باعزت گفتگو سے قائم ہوتا ہے۔ جب استاد نتائج کو صاف الفاظ میں سمجھاتا ہے تو طالب علم ذمہ داری لینا سیکھتا ہے۔

طلبہ کا آپس میں موازنہ کرنا بھی ایک عام مگر نقصان دہ رویہ ہے۔ ہر بچہ ایک ہی رفتار سے نہیں سیکھتا۔ جب استاد کہتا ہے کہ دوسرے بچوں جیسے کیوں نہیں ہو سکتے تو دراصل وہ طالب علم کی خود اعتمادی کو مجروح کرتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہر طالب علم کی اپنی پیش رفت کو دیکھا جائے اور اسی بنیاد پر رہنمائی کی جائے۔

اصلاح کا مقصد یہ نہیں کہ استاد اپنی برتری ثابت کرے بلکہ یہ ہے کہ طالب علم کو ساتھ لے کر اس کی بہتری کی طرف بڑھا جائے۔ ایک اچھا استاد سخت ہو سکتا ہے مگر بے رحم نہیں، مضبوط ہو سکتا ہے مگر توہین آمیز نہیں۔ طلبہ شاید تمام اسباق یاد نہ رکھیں، مگر وہ یہ ضرور یاد رکھتے ہیں کہ غلطی کے وقت استاد نے ان کے ساتھ کس طرح بات کی تھی۔ یہی رویہ ان کی شخصیت اور سیکھنے کے سفر پر دیرپا اثر ڈالتا ہے۔

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading