صحافی، سیاست دان اور بلند پایہ خطیب و شاعرآغاشورشؔ کاشمیری

Advertisements

  یومِ ولادت 14 اگست

نام عبدالکریم اور تخلص شورشؔ تھا۔
14؍اگست 1917ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آغا شورشؔ کاشمیری ایک مجموعہ صفات شخصیت تھے۔ صحافت، شعروادب، خطابت وسیاست ان چاروں شعبوں کے وہ شہسوار تھے۔ آغا شورشؔ نے ایک متوسط گھرانہ میں جنم لیا اور بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔
آغا شورشؔ کاشمیری کے حلقئہ احباب میں ڈاکٹر سید عبد اللّٰه، احسان دانش، سردار اللّٰه نواز خان نواز درانی، حمید نظامی ، مجید نظامی، شہید حسین سہروردی، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ، مفتی شفیع عثمانی ، ذو الفقار علی بھٹو ، نوبزادہ نصر اللّٰه خان اور دیگر افراد شامل تھے۔
آغا شورشؔ کاشمیری 24؍اکتوبر 1975ء کو لاہور میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ مولانا مفتی محمود کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
موصوف کی ایک غزل پیش خدمت ہے

انتخاب و پیشکش…. طارق اسلم

سرمئی راتوں سے چھنوا کر سحر کی رونقیں
نالۂ شام غریباں بیچتا پھرتا ہوں میں

موج بربط موج گل موج صبا کے ساتھ ساتھ
نکہت گیسوئے خوباں بیچتا پھرتا ہوں میں

دیدنی ہے اب مرے چاک گریباں کا مآل
کج کلاہوں کے گریباں بیچتا پھرتا ہوں میں

شعلۂ تاریخ کی زد پر ہے تاج خسروی
غرۂ تقدیر سلطاں بیچتا پھرتا ہوں میں

کلبۂ محنت کشاں کو دے کے غیرت کا چراغ
شوکت قصر زر افشاں بیچتا پھرتا ہوں میں

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading