Advertisements

یوم وفات…5 اگست

محمد یونس حسن نام اور فروغ تخلص تھا۔۱۵؍فروری۱۹۲۶ء کو مرادآباد میں پید اہوئے۔ دوران تعلیم محفلوں، انجمنوں اور مشاعروں میں شرکت کے باعث رئیس فروغ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ شروع میں انھوں نے قمر مراد آبادی کی شاگردی اختیار کی۔تقسیم ہند کے بعد ہجرت کرکے پاکستان چلےگئے۔۱۵سال کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازم رہے۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے او راسکرپٹ رائٹرمقرر ہوئے۔آخری وقت تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ رئیس فروغ نے غزلوں کے علاوہ بچوں کے لیے نظمیں اور نثری نظمیں بھی لکھی ہیں۔۱۵؍اگست۱۹۸۲ء کو کراچی میں رئیس فروغ انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’رات بہت ہوا چلی‘(مجموعۂ کلام)، ’ہم سورج چاند ستارے‘(بچوں کی نظمیں)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:183

موصوف کے یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں

*انتخاب و پیشکش….طارق اسلم*

* دنیا کا وبال بھی رہے گا
کچھ اپنا خیال بھی رہے گا

* جنگل سے آگے نکل گیا
وہ دریا کتنا بدل گیا

* ہوا نے بادل سے کیا کہا ہے
کہ شہر جنگل بنا ہوا ہے

* دیر تک میں تجھے دیکھتا بھی رہا
ساتھ اک سوچ کا سلسلہ بھی رہا

* سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے ہم اپنے کام سے

* شہر کا شہر بسا ہے مجھ میں
ایک صحرا بھی سجا ہے مجھ میں

* گھر مجھے رات بھر ڈرائے گیا
میں دیا بن کے جھلملائے گیا

* کہہ رہے تھے لوگ صحرا جل گیا
پھر خبر آئی کہ دریا جل گیا

* گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے
ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے

* گھر میں صحرا ہے تو صحرا کو خفا کر دیکھو
شاید آ جائے سمندر کو بلا کر دیکھو

* ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں
ابھی یہ موج ہے بیگانگی کے صحرا میں

* اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر
ہم لوگ برے لوگ ہیں ہم سے نہ ملا کر

* یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا
ہوا چلی تو لہو کو لہو پکارے گا

* گیت کے بعد بھی گائے جاؤں
اپنی آواز سنائے جاؤں

* کسی کسی کی طرف دیکھتا تو میں بھی ہوں
بہت برا نہیں اتنا برا تو میں بھی ہوں

* کتنی ہی بارشیں ہوں شکایت ذرا نہیں
سیلانیوں کو خطرۂ سیل بلا نہیں

* جوئے تازہ کسی کہسار کہن سے آئے
یہ ہنر یوں نہیں آتا ہے جتن سے آئے

* کتنی ہی بارشیں ہوں شکایت ذرا نہیں
سیلانیوں کو خطرۂ سیل بلا نہیں

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading