
آج بچوں نے اسکول میں اپنے دل کی آواز سنی(اسٹیتھواسکوپ کی مدد سے)۔ اور ہوا یوں کہ سب کو اپنے دل سے دھڑکنے کی ہی آواز سنائی دی۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ دل نے یہ کہا، دل نے وہ کہا وہ تو سنائی ہی نہیں دیا۔
اکثر ہم دل کی آواز کو جذبات، خوابوں، یا خواہشات سے جوڑتے ہیں، لیکن جب واقعی دل کی دھڑکن سننے پر دھیان دیں تو وہ ہمیں زندگی کی اصل حقیقت کی یاد دلاتی ہے۔
دل کی دھڑکن سننا شاید یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کی سب سے قیمتی چیز “موجودگی” ہے، وہ لمحہ جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ وہ خیالات، خواب اور خواہشات بھی دل کی دھڑکن کے ساتھ جڑے ہیں، مگر اصل اہمیت اس دھڑکن کی ہے جو ہمیں زندہ رکھتی ہے۔
شاید بچوں کو اس لمحے میں اپنی موجودگی کا احساس ہوا ہوگا، ایک سادہ مگر طاقتور سبق۔
یہ سرگرمی یقیناً بچوں کے لیے ایک گہرا سبق چھوڑ گئی ہوگی۔ دل کی دھڑکن کو محسوس کرنے کی مشق نہ صرف انہیں خود شناسی کی طرف راغب کرتی ہے بلکہ زندگی کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک منفرد زاویہ بھی دیتی ہے۔
یہ سرگرمی بچوں کو یہ سکھا سکتی ہے کہ کبھی کبھار زندگی کی بھاگ دوڑ سے رک کر خود پر دھیان دینا کتنا ضروری ہے۔ دل کی دھڑکن سننا ایک طرح کی ذہنی ہوشیاری کی مشق بھی بن سکتی ہے، جو مستقبل میں ان کے جذباتی اور ذہنی سکون کے لیے فایدہ مند ہوگی۔
یہ واقعہ نہایت دلچسپ اور بچوں کے لیے یادگار تجربہ ہوا! اسٹیتھواسکوپ کے ذریعے اپنے دل کی آواز سننا ایک منفرد سرگرمی ہے جو نہ صرف سائنسی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ بچوں کو ان کے جسم اور زندگی کی خوبصورتی کے قریب لے جاتی ہے۔
سرگرمی کی تفصیل:
ابتدائی تعارف: سرگرمی کا آغاز بچوں کو یہ بتاتے ہوئے ہوا کہ دل کس طرح کام کرتا ہے اور کیوں یہ ہماری زندگی کے لیے اہم ہے۔ انہیں یہ سمجھایا گیا کہ دل کی دھڑکن ہمارے جسم میں خون کی روانی کو برقرار رکھنے کا کام کرتی ہے، اور یہ زندگی کا سب سے بنیادی عمل ہے۔
اسٹیتھواسکوپ کا تعارف: بچوں کو اسٹیتھواسکوپ دکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ آلہ ڈاکٹروں کی مدد کرتا ہے کہ وہ دل کی دھڑکن کو سن سکیں اور دل کی صحت کو جانچ سکیں۔ کچھ بچوں نے شاید اسے پہلی بار چھو کر دیکھا، اور یہ ان کے لیے بے حد دلچسپ رہا۔
دل کی دھڑکن سننا: جب بچوں نے اپنے دل کی دھڑکن اسٹیتھواسکوپ کے ذریعے سنی تو انہیں اپنی زندگی کے اندرونی میکانزم کا اندازہ ہوا۔ پہلی بار انہوں نے سنا کہ دل ایک مشین کی طرح مسلسل کام کر رہا ہے، بغیر رکے، ان کی زندگی کو جاری رکھنے کے لیے۔
حیرت اور سوالات: یہ لمحہ بہت خاص ہوا جب بچوں نے محسوس کیا کہ دل کی آواز صرف دھڑکن تک محدود ہے۔ وہ جو “دل کی بات” کے خیالی تصورات تھے، وہ دھڑکن کے سامنے ثانوی محسوس ہوئے۔ بچوں نے کئی سوالات بھی کیے :
کیا دل واقعی “کچھ کہتا” ہے؟
یہ دھڑکن کبھی رکتی کیوں نہیں؟
کیا یہ دھڑکن ہماری جذباتی کیفیت سے بدلتی ہے؟
سبق اور شعور: یہ سرگرمی صرف سائنسی تعلیم تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس نے ایک گہری فلسفیانہ سمجھ بھی پیدا کی:
دل کی دھڑکن زندگی کا بنیادی احساس ہے، جو ہر لمحے ہمارے ساتھ ہے۔
“دل کی بات” سننے کا مطلب جذبات اور حقیقت کو متوازن کرنا ہے۔
بچوں کے ردعمل:
بچوں نے یقیناً یہ سرگرمی بہت انجوائے کی۔ کچھ بچے حیرت میں تھے، کچھ مسکرا رہے تھے، اور کچھ نے شاید دل کی دھڑکن کو شاعری یا کہانیوں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔ یہ سرگرمی انہیں یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ ان کا جسم کتنا پیچیدہ اور خوبصورت ہے۔
استاد کا کردار:ایک استاد کے لیے یہ سرگرمی ترتیب دینا اور بچوں کو جسمانی، جذباتی، اور فلسفیانہ سطح پر سیکھنے کا موقع دینا قابلِ تحسین ہے۔ یہ سرگرمی بچوں کی شخصیت سازی میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔
ضلع پریشد اردومرکزی اسکول، سیونہ تعلقہ سلوڑ ضلع اورنگ (مہاراشٹر)

