خوبصورت اداکارہ…لاجواب شاعرہ مینا کماری جی کا یوم ولادت

Advertisements

یکم اگست

مینا کماری کا اصل نام تو مہ جبیں تھا۔ اس کی پہلی فلم لیدر فیس کے بعد وجے بھٹ نے اس کا نام تبدیل کر دیا تھا اور اس کے لیے تین نام پربھا، کملا اور مینا چنے گئے اور آخر اسے مینا کا نام مل گیا۔ اور آٹھ سال بعد اپنی پہلی فلم میں وہ مینا کماری بن گئی۔ ویسے اس کا نک نیم منجو تھا۔ وہ تین بہنیں تھیں۔ اس کی ایک بہن کی شادی مشہور کامیڈین اداکار محمود سے ہوئی تھی۔ مینا نے چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے فلموں میں کام کرنا شروع کیا تھا اور یہ فنی سفر طے کرتے ہوئے اپنے آخری لمحات تک انڈین فلم انڈسٹری کو دئیے۔ اس کو چالیس سال میں وہ بے پناہ کامیابی، عزت اور شہرت ملی جسں تک پہنچنا کسی اداکارہ کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ یہ پہلی اداکارہ تھی جس نے پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا۔ اور یہ ایوارڈ اسے فلم بیجو باوارا پر ملا تھا۔ بیجو باورا ہی وہ پہلی فلم تھی جس نے مینا کو شہرت اور پہچان دی-
مینا کماری کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ مرزا غالب کی شاعری کی بہت بڑی فین تھیں۔ اور اس کے پاس غالب کا سارا کلام موجود تھا۔ اس کی اپنی ایک اچھی خاصی لائبریری اور کولیکشن موجود تھی۔ فلم بے نظیر کے سیٹ پر مشہور ڈائریکٹر بمل رائے کے اسسٹنٹ نے مینا کماری کو رائٹر اور شاعرگلزار سے ملایا اور یہاں سے اس کی زندگی میں اک نیا باب شروع ہوا شاعری کا، اور وہ خود بھی شعر کہنے لگی۔ ناز اس کا تخلص تھا۔ زندگی میں عزت، دولت، شہرت سب کچھ اسکے پاس تھا۔ لیکن بعض دفعہ انسان پھر بھی تشنہ رہ جاتا ہے۔ یہ بات مینا کماری پر صادق آئی۔ جہاں اس کی پروفیشنل زندگی میں سب کچھ اچھا چل رہا تھا وہیں اس کی ذاتی زندگی اتنی ہی ڈسٹرب تھی۔ پہلے وہ کمال امروہی کی دوسری بیوی بنی۔ پھر وہ چاہتے ہوئے بھی ماں نہ بن پائی۔ ان دنوں وہ عروج پر تھی۔ جب میاں بیوی میں کچھ ان بن ہوئی۔ جسے بد خواہوں نے ہوا دی اور میاں بیوی میں دوری ہوئی۔ یہ جدائی اور زخم اس نے اپنے دل پر لیے۔ میں جب بھی مینا جی کی لکھی شاعری پڑھتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے یہ ان کے ٹوٹے دل کی کرچیاں ہیں۔ جو غزل اور نظم کی صورت کاغذ پر پھیلی ہیں۔ دکھ اور غموں نے جیسے اسے مات دے دی ۔ اور اس کے اندر کی شاعرہ بیدار ہو گئی تھی
موصوفہ کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں

انتخاب و پیشکش…طارق اسلم

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا

تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

عیادت کو آئے شفا ہو گئی
مری روح تن سے جدا ہو گئی

کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو
جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے

ہنسی تھمی ہے ان آنکھوں میں یوں نمی کی طرح
چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح

یہ نہ سوچو کل کیا ہو
کون کہے اس پل کیا ہو

اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے
رو پہلی چاندنی ہے اور گھپ اندھیرا ہے

روح کا چہرہ کتابی ہوگا
جسم کا رنگ عنابی ہوگا

چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا

ہنسی تھمی ہے ان آنکھوں میں یوں نمی کی طرح
چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح

عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

یوں تیری رہ گزر سے دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading