
عبداللہ رضا
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، جو نہ صرف علم منتقل کرتی ہے بلکہ تہذیب، اخلاق، کردار، سوچ اور رویوں کو بھی پروان چڑھاتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں ہم جس تعلیمی نظام کے تحت نسل نو کی ذہن سازی کر رہے ہیں، اس میں علمی ترقی کے نام پر اخلاقی تربیت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ تجربہ، تجزیہ اور تحقیق سے یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ موجودہ تعلیمی نصاب میں اخلاقی و تہذیبی اقدار کی وہ روشنی معدوم ہوتی جا رہی ہے جو کبھی ہمارے قدیم نصابوں کا بنیادی وصف ہوا کرتی تھی۔پرانے نصاب میں بے شمار ایسی کہانیاں، اسباق، نظمیں، تمثیلات اور کردار پیش کیے جاتے تھے جو بظاہر صرف مطالعے یا زبان سیکھنے کے لیے ہوتے، مگر ان کے بین السطور اخلاقیات کی وہ جھلک ہوتی تھی جو قاری کے ذہن و دل پر دیرپا اثر چھوڑتی تھی۔ کبھی کسی نیک کسان کی محنت کو سراہا جاتا، تو کبھی کسی بچے کی دیانتداری کو کہانی کا مرکزی خیال بنایا جاتا۔ کسی ماں کی مامتا، کسی استاد کی شفقت، کسی بزرگ کی حکمت، کسی دوست کی وفاداری—یہ سب ہمارے مطالعہ، اردو اور دیگر کتابوں کا حصہ ہوتے تھے۔مگر آج؟ آج کا نصاب تکنیکی مہارتوں اور علمی ترقی پر مرکوز ہو گیا ہے، جو بلاشبہ اہم ہیں، مگر ان کا کوئی اخلاقی یا انسانی پہلو شامل نہ ہو تو یہ علم ایک تیز دھار خنجر بن جاتا ہے، جو صرف عقل کو جِلا دیتا ہے مگر دل کو کھوکھلا چھوڑ دیتا ہے۔موجودہ نسل کے رویوں، زبان، طرزِ گفتگو، برداشت، بزرگوں کے ساتھ برتاؤ، استاد کی عزت، اور دوسروں کے احساسات کے لیے حساسیت کا زوال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام سے اخلاقی اقدار رخصت ہو چکی ہیں۔ یہ وہ خالی پن ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ قوم کو اندر سے کھوکھلا کر سکتا ہے۔یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اخلاقیات صرف مذہبی کتابوں یا واعظوں کی بات نہیں، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک سلیقہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں صرف ڈاکٹر، انجینئر یا سائنسدان نہ بنیں بلکہ ایک مکمل انسان بھی بنیں، تو ہمیں اپنے نصاب میں دوبارہ ان کہانیوں، نظموں اور سبق آموز اسباق کو جگہ دینی ہوگی جن سے بچے ادب، احترام، سچائی، دیانت، قربانی، ہمدردی اور ایثار جیسے جذبات سیکھ سکیں۔یاد رکھیے، نصاب میں شامل ایک سادہ سی کہانی بھی اگر دل کو چھو جائے، تو وہ زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نصاب ساز اداروں، اساتذہ، والدین اور معاشرتی ذمہ داروں کی حیثیت سے اس پر غور کریں اور عملی قدم اٹھائیں۔

