الفاظ کے بھی ہاتھ ہوتے ہیں، جو تھپتھپانے یا تھپڑ رسید کرنے کی طاقت رکھتے ہیں.

Advertisements

ازقلم : طٰہٰ نلاّمندو
معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ

یہ جملہ انسان کی گفتگو اور زبان کے اثر کو نہایت گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ انسان کے پاس سب سے بڑی طاقت اس کی زبان ہے، اور زبان کی بنیاد الفاظ پر ہے۔ الفاظ بے جان نہیں ہوتے، ان میں دل کی دھڑکن، احساس کی گہرائی اور روح کی حرارت چھپی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے: زخم تلوار کے بھر جاتے ہیں مگر زبان کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔ الفاظ کبھی کسی کے دل پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہیں تو کبھی تھپڑ کی طرح چوٹ پہنچاتے ہیں۔

لفظ انسان کے احساسات کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر دل میں محبت ہو تو الفاظ مرہم بن جاتے ہیں، اور اگر نفرت یا تکبر چھپا ہو تو وہی الفاظ زہر بن جاتے ہیں۔ ایک “شکریہ” کسی کے دل میں روشنی پیدا کر دیتا ہے اور ایک “کیا کر لوگے تم؟” دل کو توڑ دیتا ہے۔ یہی الفاظ کا کمال ہے کہ وہ چاہیں تو روح کو سہلا دیں اور چاہیں تو وجود کو جلا دیں۔

الفاظ صرف بولے نہیں جاتے بلکہ انسان کے کردار اور تربیت کی جھلک ہوتے ہیں۔ جس نے گفتگو میں نرمی اختیار کی، اس نے اپنے اخلاق کو بلند کیا، اور جو طنز اور تحقیر کو زبان کا زیور بناتا ہے، وہ اپنے وقار کو خود گراتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے “قولاً سدیدا” یعنی سیدھی اور درست بات کہو، اور “قولاً لینا” یعنی نرم بات کہو۔ ان ہدایات میں انسانیت کا سارا ادب چھپا ہے کہ زبان کے ذریعے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے۔

اکثر رشتے غلط فہمیوں سے نہیں بلکہ غلط الفاظ سے ٹوٹتے ہیں۔ غصے میں کہا گیا ایک جملہ برسوں کی محبت مٹا دیتا ہے۔ زبان سے نکلا لفظ تیر کی طرح ہے جو ایک بار چل جائے تو واپس نہیں آتا۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے کہ ہمارے الفاظ دل پر زخم چھوڑیں گے یا مرہم رکھیں گے۔

کبھی کبھی خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے۔ وہ نگاہوں سے دل کی بات کہہ دیتی ہے، مگر یہ خاموشی تب قیمتی ہے جب اس کے پیچھے محبت چھپی ہو۔ اگر دل میں بے رخی ہو تو یہی خاموشی کسی کے لیے زہر بن جاتی ہے۔

اچھے الفاظ خوشبو کی طرح ہوتے ہیں۔ جب آپ کسی سے محبت، دعا یا تعریف کے الفاظ کہتے ہیں تو وہ خوشبو کی طرح آپ کے اپنے وجود میں بھی بسی رہتی ہے۔ بولنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ میرا لفظ کسی کے دل پر تھپکی چھوڑے گا یا تھپڑ کی چوٹ۔

الفاظ انسان کے اخلاق کا آئینہ ہیں۔ وہ چاہیں تو فاصلے مٹا دیں اور چاہیں تو دلوں میں دیواریں کھڑی کر دیں۔ اس لیے ہمیشہ ایسے الفاظ چنیں جو دلوں کو جوڑیں، روحوں کو سکون دیں اور محبت کا پیغام چھوڑ جائیں۔ یاد رکھیے، الفاظ کے بھی ہاتھ ہوتے ہیں — جو تھپتھپانے یا تھپڑ رسید کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہمیشہ وہ الفاظ بولیے جو کسی کے دل پر محبت کی تھپکی چھوڑ جائیں، نہ کہ درد کا نشان۔

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading