اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی — علامہ اقبال کا پیغامِ خودی

Advertisements

عبداللہ رضا ۔

علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ برصغیر کے اُن عظیم مفکّر، شاعر اور رہنما تھے جنہوں نے نہ صرف اردو ادب بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی فکری دنیا کو نئی سمت عطا کی۔ اُن کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک دعوتِ بیداری ہے جو انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے اور خودی کی منزل تک پہنچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اقبالؒ کا پیغام ہمیشہ انسان کے اندرونی وجود کو جگانے، اُس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنے اور اُسے عمل و ایمان کی راہ پر گامزن کرنے کا رہا ہے۔ اُن کا یقین تھا کہ ہر انسان کے اندر ایک چمک، ایک روشنی، ایک طاقت چھپی ہے—بس ضرورت ہے اُسے پہچاننے اور بروئے کار لانے کی۔

اقبالؒ کا یہ مشہور شعر اسی پیغام کی ایک خوبصورت ترجمانی کرتا ہے:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اس شعر میں اقبالؒ انسان کو خودی اور خود شناسی کا سبق دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل زندگی کا راز کسی بیرونی دنیا میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر پوشیدہ ہے۔ اگر تُو زندگی کا مقصد جاننا چاہتا ہے تو دوسروں کی پیروی چھوڑ دے، اپنے من میں ڈوب—یعنی خود کو پہچان، اپنے دل کی گہرائیوں میں اتر۔

دوسرے مصرعے میں اقبالؒ ایک زبردست پیغام دیتے ہیں: اگر تُو میرا نہیں بنتا، یعنی اگر تُو میرے نظریے کو نہیں مانتا، تب بھی کوئی بات نہیں—لیکن کم از کم اپنا تو بن! اپنی راہ خود بنا، اپنی پہچان خود پیدا کر۔ دوسروں کے سہارے مت جیو، اپنی بنیاد خود رکھ۔

یہ شعر دراصل خودی کے فلسفے کی بنیاد ہے—ایک ایسا نظریہ جو انسان کو باوقار، خودمختار اور باعمل بناتا ہے۔

اقبالؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے
آج کے نوجوان کے لیے اقبالؒ کا یہ پیغام روشنی کا مینار ہے۔ ہمیں اپنی ذات میں جھانک کر اپنے مقصدِ زندگی کو پہچاننا ہوگا۔ جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے تو وہ دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان قائم کر لیتا ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

Leave a Reply

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Discover more from BadlaoZaruriHai

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading